دُختِ کرام

by Other Authors

Page 305 of 497

دُختِ کرام — Page 305

۲۹۳ کی پتی سے الگ ہونے کو نہیں ماننا تھا۔نہ جانے کتنے مہینے اس کمرے میں بند رہیں۔ایک دفعہ بتایا کہ بہت عرصہ کے بعد جب کمرے سے نکلی تو میری آنکھیں سورج کی روشنی سے چندھیا گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ بہت بیدار مغز تھیں چاروں طرف دماغ چلتا یہ نہیں کہ ایک طرف لگ کر دوسرے پہلو بھلا دیتے ہیں۔میں اور مصطفے چونکہ بہت چھوٹے تھے اس لیے ہماری تربیت کی بھی فکر رہتی آیا کی طبیعت نسبتاً سنبھلی تو ان کو بڑے کمرے میں منتقل کر دیا۔ہمارے پلنگ بھی وہیں بچھوا دیتے۔ہمارا سارا بچپن ابا امی کے ساتھ اسی کمرے میں گذرا نزدیک ترین سکول ایک عیسائی مشنری سکول SACRED HEART تھا اس میں داخل کرا دیا۔عیسائیت کے عقائد کے متعلق ہمارے چھوٹے چھوٹے ذہنوں میں جو سوال ابھرتے ان کا ابا اتی تسلی بخش جواب دیتے میں سختی سے منع کیا ہوا تھا کہ عیسائی عقیدہ سے جو دعا ہواس میں OUR FATHER کی بجائے OUR GOD کہنا ہے۔چھوٹی چھوٹی دینی کتب ہمارے سرہانے رکھوائیں تاکہ پاکیزہ لٹریچر پڑھنے کی عادت پڑے شروع کے ایک سال ہماری بڑی اتنی رحضرت خواب مبارک کہ بیگم صاحبہ بھی اسی کمرے میں ہمارے ساتھ سوتی رہیں۔رات کو ہم بچوں کے دل بہلانے کو سبق آموز کہانیاں سناتیں۔اُردو کی کتب منتیں تاکہ زبان صاف ہو اور ہر اچھی بری بات کی تمیز کان میں ڈالتی رہیں ان کی موجودگی امی کے لیے بڑا ذہنی سہارا تھی۔ہم تو خیر چھوٹے تھے قابو آجاتے تھے اونچی آواز سے بولنا یاد ہی نہیں۔بچوں والا چلبلا پن اور شرارتیں پیدا ہی نہیں