دُختِ کرام

by Other Authors

Page 225 of 497

دُختِ کرام — Page 225

ایک مکتوب حضرت سیدہ مرحومہ کے دو شعر آپ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی عزیز فوز تمیم صاحبہ نے مجھے ایک خط میں لکھا :- بسم الله الرحمن الرحیم مکرمی محترمی سجاد صاحب السلام علیکم ! آپ کا خط ملا۔بھائی جان عباس نے ذکر کیا تھا کہ آپ امی کی سوانح لکھ رہے ہیں۔خدا تعالیٰ آپ کو احسن طور پر یہ کام کرنے کی توفیق دے اور اس راہ میں جو بھی پریشانیاں ہیں ان سے بچائے۔سعدیہ کے بعد تو میرا یہ حال ہے کہ دماغ نے گویا کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔مجھے اپنی اس حالت پر دیا ندامت بھی ہے اور پریشانی بھی۔صبر کے جس مقام پر آپ مجھے کھڑا سمجھتے ہیں وہ مجھ میں نہیں۔بہر حال میں ہر طرح سے کوشش کروں گی جب بھی میرے ذہن نے کام کیا۔میں امی کے متعلق تاثرات جو لکھنے سے رہ گئے تھے آپ تک پہنچاتی رہوں گی۔امی کا کلام میرے پاس تو نہیں ہے کیونکہ اتھی میں بہت چھوٹی تھی جب امی کو آباد کی بیماری کی وجہ سے اتنا مصروف رہنا پڑا کہ شعر و شاعری کی ہوش ہی نہ رہی۔ابا کی وفات کے بعد انہوں نے اپنی۔