دُختِ کرام — Page 198
JAY آتا ہے زندگی اور زندگی کے بعد کے حالات کو یکساں قرار نہیں دیا جاسکتا اس سے اور اس قسم کی دوسری شالوں سے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ صاحب برکت وجود جب جاتے ہیں تو گویا اپنی برکتیں پچھے چھوڑ جاتے ہیں البتہ ان برکتوں سے استفادہ کرنے والوں کی کیفیت میں کمی آجاتی ہے ورنہ وہ برکتیں تو اپنی ذات میں زندہ رہتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکتوں کو کون کہ سکتا ہے کہ ختم ہو گئیں وہ تو اس دور تک جاری ہیں اور قیامت تک جاری رہیں گی۔بیچ کے دور میں اگر اس سے استفادہ کم ہو گیا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالی نے آپ کی روحانی اولاد کے طور پر کھڑا فرما دیا۔وہ ساری برکتیں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات میں دوبارہ جاری دکھائی گئیں۔ایک برکت بھی ایسی نہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کے علاوہ ہو۔چنانچہ آپ کو الساماً بتايا گيا حُلُّ بَرَكَة مِنْ مُحَمد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کہ ساری برکتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکتیں ہیں حضرت مسیح موعود السلام نے اس کا مختلف رنگ میں اقرارہ فرمایا آپ ایک جگہ فرماتے ہیں سے این چشمه روان که بخلق خدا دیم یک قطرہ زبحر کمال محمد است * پس اگر کوئی وجود اپنے ساتھ برکتیں ہی لے جاتے تو ایسا وجود تو برکتوں کے معامہ میں بہت ہی کنجوس ہو گا۔وقتی طور پر برکتیں دے کر