دُختِ کرام — Page 166
۱۵۴ مطابق نماز جنازہ اور تدفین میں شامل ہونے والے مرد و زن کی تعداد نہیں ہزار سے متجاوز تھی۔ان میں اہلِ ربوہ کے علاوہ ملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے احمدی احباب و خواتین شامل تھے جو حضرت مسیح موعود علی السلام کی سب سے چھوٹی صاحبزادی اور حضور کی مصلبی اولاد کی آخری نشانی اور ایک بابرکت و مقدس وجود کے جنازہ میں شرکت اور محبت و عقیدت کے اظہار کی غرض سے حاضر ہوئے تھے۔آخری دیدار حضرت سیدہ موصوفہ کے انتقال کے دو گھنٹہ بعد امتی عشوہ شام ۵ بجے سیدہ موصوفہ کا جسد خاکی عورتوں کی آخری زیارت کے لیے حضرت سیدہ مرحومہ کی رہائش گاہ بیت الکرام واقع دارالصدر جنوبی کے بڑے کمرہ میں رکھ دیا گیا تھا۔حضرت سیدہ مرحومہ کے انتقال کی خبر سارے ربوہ میں پھیل گئی اور تھوڑی ہی دیر بعد مرد و خواتین جوق در جوق سیده مرحومہ کے گھر آنے لگیں۔چنانچہ ۵ بجے شام خواتین کی بہت بڑی تعداد نے حضرت سیدہ مرحومہ کا آخری دیدار کیا یہ سلسلہ 4 بجے شام تک جاری رہا اگلے روز صبح 4 بجے پھر آخری دیدار کا سلسلہ شروع ہوا خواتین ایسی قطاروں میں اپنی باری کے انتظار میں کھڑی تھیں وقت کی تنگی اور خواتین کی بھاری تعداد کے پیش نظر خواتین کو ہدایت کی جاتی رہی کہ وہ تیزی سے دیدار کر کے گذرتی چلی جائیں تاکہ سب موجود خواتین دیدار کر سکیں۔اس طرح ہزاروں