دُختِ کرام — Page 163
۱۵۱ دریب ایسی بزرگ و برتر ہستیاں افضال وبرکات الہی کا مورد ہوتی میں آلام و مصائب میں ان کا وجود قلعہ نما ہوتا ہے حصن حصین عافیت کا حصار خُدا تعالیٰ کو ان کا اکرام منظور ہوتا ہے وہ مستجاب الدعوات ہوتی ہیں مخلوق خدا ان کی وجہ سے ابتلا و آفات میں امن و عافیت میں رہتی ہے۔ان کی دعاؤں سے ایک عالم فیض یاب ہوتا ہے اور بہت سی بلائیں ٹل جاتی ہیں دنیا کی تقدیریں بدل جاتی ہیں اور آج - ان جیسی مبارک اور فیض رساں ہستیوں میں سے ایک ہمیں ملول و محروں بنا کر بلکتا چھوڑ کر عالم بالا کو سدھار گئیں سے دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑے گا جو ملا ہے اگر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے حضرت سیده امنه الحفیظ بیگم صاحبہ کی کس کس خوبی کا ذکر کیا جائے وہ تو مجسمہ حسن و خوبی تھیں۔مرا یا شفقت اور آپ کی شفقت و رافت ہر ایک کے لیے تھی خصوصاً بچوں کے ساتھ آپ کا سلوک انتہائی مشفقانہ تھا آپ سب کی ہمدرد و نگار اور مونس و ہمدم تھیں۔خاندان کے کسی بھی فرد کی ذراسی تکلیف پر بے چین ہو جاتیں۔جماعت کے ہر فرد کا آپ کو خیال تھا اپنے ذی وقار شوہر کی دل و جان سے خدمت کرنے والی مطیع و فرمانبردار اور اپنے بچوں اور عزیزوں پر جان چھڑکنے والی۔شیریں کلام ایسی کہ ان کے دو بول ہی دلوں کے لیے ڈھارس بن جاتے۔وہ میں نقب سے مقب تھیں انہوں نے اپنے آپ کو دلیا ثابت کر دکھایا۔کیونکہ وہ بلاشبہ اخلاق