دُختِ کرام — Page 159
۱۴۷ مستقل میں بن گئی یوں محسوس ہو رہا تھا کہ گویا ابا محبت اور پیارا اور نفر سین ہو رہا سے امی کو دیکھ رہے ہوں امی اور آپا قدسیہ کی بھی یہی کیفیت ہو گی ؟ لیکن ہمارے یہاں جذبوں کی زبان نہیں وہ محسوس تو کئے جاتے ہیں۔پر زبان پر نہیں آتے۔۲۶ اگست کو صحیح باجوہ صاحب ، بیگیم با جوه موجین اور لطیف صاحب کے ساتھ لوسرن" کی سیر کے لیے روانہ ہوئے۔یہ بگہ زیورچ سے چالیس میل کے فاصلہ پر ہے سارا رستہ خوبصورت تھا۔سرسبز پہاڑ جھیلیں۔پھلدار درخت نظارے کو اور بھی دیدہ زیب بنا رہے تھے "لوسرن" کا باغ بہت خوبصورت ہے۔یہاں پر ایسے کھنڈرات بھی تھے جو STONE AGE سے تعلق رکھتے تھے اور ایسے ایسے جانور جن کی نسل ختم ہو چکی ہے۔وہاں سے ہم نوسرن کی جھیل پر گئے جو اپنی خوبصورتی میں خاص سمجھی جاتی ہے چھوٹی چھوٹی کشتیوں نے جھیل میں جال سا بنا رکھا تھا۔چاروں طرف سرسبز پہاڑ تھہ در تہ دکھائی دے رہے تھے بھائی موجی نے خوب تصاویر لیں۔اس کے بعد ہم پہاڑوں کے اُوپر گئے باجوہ صاحب کا بیٹا بہت خوش ہوا اور چاروں طرف دوڑنے لگا۔۲۷ اگست کو ہم لندن کے لیے روانہ ہوئے ارادہ تو پہلے میری جانے کا تھا۔لیکن آیا قدسیہ اپنے بچے لندن چھوڑ آتی تھیں اور ہمیں کی طبیعت ٹھیک نہ تھی۔رفیق صاحب نے لندن سے فون پر مشورہ دیا کہ ہمیں واپس آجانا چاہیتے اس لیے اسی دن سیٹیں بک کروا کہ ہم