دُختِ کرام — Page 147
۱۳۵ حافظ صاحب کی فیملی سے بہت مانوس ہو گئے تھے ان کی بیگم تو اقی سے بہت محبت کرنے لگی تھیں اور رخصت ہوتے ہوتے امّی سے مل کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں امی نے ان کو بہت دلاسہ دیا۔اور یہاں کی خوشگوار یادیں لے کر ہم ایمسٹرڈم کے لیے روانہ ہوتے۔ایمسٹرڈم پہنچ کر ہم نے موٹر بوٹ کے ذریعہ پورے شہر کی سیر کی۔ایک لڑکی سارا راستہ شہر کے متعلق کمنٹری دیتی رہی اتی نے اس سیر کا بہت لطف اُٹھایا۔آپا قدسیہ اور بھائی موجی تو ٹرین کے ذریعے ہیمبرگ روانہ ہو گئے اور حافظ صاحب اور ربانی صاحب نے امی کو اور مجھے میرگ جانے کے لیے ائر پورٹ پہنچا دیا۔حافظ صاحب کی فیمیلی یہاں بھی دوبارہ ہیں خدا حافظ کہنے آتی ہوئی تھی۔ہیمبرگ ایسٹرڈم سے ہیمبرگ کی فلائٹ بہت چھوٹی تھی۔جرمنی کے مرتی چوہدری لطیف صاحب کو ہمارے آنے کی اطلاع دے دی گئی تھی۔ہمیں لینے کے لیے ان کا ایر پورٹ آنا تو متوقع تھا۔جیسے ہی امی جہاز کی سیڑھیوں سے اُتریں ایک برقعہ پوش خاتون نے ان کو گلے لگا کر پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔یہ لطیف صاحب کی اہلیہ تھیں۔ان کے بعد دو جرمن خواتین آگے بڑھیں اور انہوں نے بھی امی کو گلدستے پیش کئے اور مجھے بھی پھولوں سے ا ر دیا۔دو جرمن مرد بھی جہاز کی سیڑھیوں پر آئے ہوتے تھے ہم سب ائر پورٹ بس پر ائر پورٹ پہنچے ہمارے ہم سفر ہمارے بڑھے اور ہمارا