دُختِ کرام — Page 142
صاحبہ نے موصوفہ کے سفر یورپ کے حالات بڑی تفصیل سے تحریر کھتے ہیں جو ایام سفر کے لحومہ کی روداد پر محیط ہیں۔فرماتی ہیں : لندن میں ورود پاکستان سے انگلینڈ روانگی کے وقت دل میں کوئی اسٹنگ تھی یوں محسوس ہوتا تھا گویا ایک فرض پورا کر رہے ہیں۔اتنی بھی بجھی بھی تھیں۔میری وجہ سے تیار ہو گئیں ، لیکن طبیعت پر مردہ تھی۔جلدی جلدی تیاری کی اور اسی محبت میں بڑے ماموں حضرت فضل عمر سے بھی نہ ملنے جاسکیں جس کا ان کی طبیعت پر بہت اثر تھا۔لندن جا کر طبیعت کچھ سنبھلی آیا قدسیہ اور بھائی موجی رضا حبزادہ مرزا امجید احمد صاحب بمع بچگان وہاں پہلے۔سے موجود تھے۔بشیر رفیق صاحب ان دنوں لندن کے امام تھے چھوٹی سی ہماری جماعت تھی لیکن مخلصین سے بھری ہوئی ان سب نے امی کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی دختر کا دیار غیر میں اس قدر خیال رکھا کہ ساری عمرانی ان لوگوں کو نہ بھولیں۔ہمارے گھر میں ہمیشہ ان سب کی محبت کا تذکرہ ہوتا رہا امی کی طبیعت میں معنویت کا جذبہ بے انتہا تھا اور پردیس میں جس محبت اور خلوص سے سب احمدی بہن بھائیوں نے ہمارا خیال رکھا وہ ساری زندگی کے لیے ان کے دل پر گہرا اثر چھوڑ گیا اور دعاؤں کا بہت بڑا ذخیرہ ان کے لیے اکٹھا کرنے کا موجب بنا۔نون کے قیام کے دوران ایک دن اتھی کو سویٹزر لینڈ سے شبان احمد