دعائیہ سیٹ — Page 288
پیدا کرنے کی غرض سے یا حاجی کہلانے کے لئے یا رسمی طور پر جاتے ہیں ایسے لوگ حج کے اصل مقصد اور ثواب سے محروم رہتے ہیں۔7۔احرام باندھنے سے پہلے حجامت وغیرہ سے فراغت پا کر وضو غسل کر کے خوشبو لگا کے ایک تہہ بند اور ایک چادر بغیر سملی ہوئی پہنی چاہئے اس کے علاوہ اور کوئی چیز پہنی یا اوڑھی نہیں جاتی۔دو نفل نماز پڑھ کر حج کی نیت کر کے سواری پر یا پیدل مندرجہ ذیل تکبیریں بلند آواز سے پڑھتے ہوئے مکہ کی طرف روانہ ہوا جاتا ہے۔لبيك لبيكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكُ لَكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں، اے اللہ تعالیٰ میں حاضر ہوں ،کوئی تیرا شریک نہیں ، ہر تعریف اور ہر نعمت تیرے ہی لئے ہے، اور تیری بادشاہت میں تیرا کوئی شریک نہیں ہے، میں حاضر ہوں۔8۔ہر نماز کے بعد، ہر زیارت اور مقام عبادت پر ان تکبیرات کو پڑھتے رہنا چاہئے۔9۔بیت اللہ کے طواف اور سعی بین الصفا والمروہ کا نام عمرہ ہے۔اس کیلئے مکہ سے باہر کے مقام سے احرام باندھنا چاہئے۔اس لئے مکہ میں رہنے والے لوگ عمرہ کے احرام کیلئے تنعیم جاتے ہیں اور وہاں سے احرام باندھ کر واپس مکہ آتے ہیں۔تا کہ اس عبادت کے لئے سفر کی شرط پوری ہو جائے۔عمرہ کے لئے کوئی خاص وقت مقرر 288