دعائیہ سیٹ — Page 247
نہیں مانوں گا۔پس جب تک کان میں یہ الفاظ نہ پڑیں کہ یہ دعامت مانگ اس کے مانگنے کی میں تمہیں اجازت نہیں دیتا۔اس وقت تک نہیں رکنا چاہئے۔اس طرح تو ان کو مطلع کیا جاتا ہے جنہیں الہام اور کشف کا رتبہ حاصل ہوتا ہے اور جنہیں یہ نہ ہو ان کو اس بات سے متنفر کر دیا جاتا ہے جس کے متعلق وہ دعا کرتے ہیں۔ترک دعا کا راز جن پر الہام اور وحی کا دروازہ کھلا ہوتا ہے ان کو تو خدا کہ دیتا ہے کہ ایسا مت کرو لیکن جن کے لئے نہیں ہوتا۔ان کے دل میں نفرت پیدا کر دی جاتی ہے اس لئے وہ خود ہی اس دعا کے مانگنے سے باز رہ جاتے ہیں اس کا نام مایوس نہیں بلکہ ان کا یہ تو یقین ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارا فلاں مقصد پورا کرسکتا اور ہمیں فلاں چیز دے سکتا ہے لیکن ہم خود ہی اسے نہیں لینا چاہتے۔پس اگر کسی کے دل میں دعا مانگتے ہوئے اس چیز سے نفرت پیدا ہو جائے تو اسے بھی دعا کرنا چھوڑ دینا چاہئے۔ورنہ نہیں رکنا چاہئے خواہ قبولیت میں کتنا ہی عرصہ کیوں نہ لگ جائے بعض دفعہ دعا کرتے کرتے کچھ ایسے سامان پیدا ہو جاتے ہیں کہ اگر دعا قبول ہو جائے تو اس سے شریعت کا کوئی حکم ٹوٹتا ہے۔اس سے بھی سمجھ لینا چاہئے کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ اس دعا سے باز رہنا چاہئے۔خدا تعالیٰ کے دعا کو قبول کرنے سے انکار کرنے کا یہ بھی ایک طریق ہے یعنی بجائے قول کے خدا تعالی کا فعل سامنے آ جاتا ہے اس لئے اس کے کرنے سے رک جانا چاہئے۔( خطبات محمود جلد 5 صفحہ 173 تا 185) 247