دُعائے مستجاب — Page 89
دعائے مستجاب۔غرض ہمارا کامیابی کا یہ بہت بڑا گر ہے کہ ہر کام کے شروع کرنے سے پہلے ہم اللہ تعالیٰ سے دُعا کر لیا کریں۔خدا تعالیٰ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تعلیم دے کر ہمیں سکھایا ہے کہ جب کوئی کام کرنے لگو تو خدا تعالیٰ سے مدد طلب کرلیا کرو۔غرض دُعا خدا تعالیٰ کے ساتھ بندہ کے تعلق کی ایک علامت ہے۔جب کوئی شخص دیکھے کہ دعا کی طرف اُسے رغبت نہیں تو وہ سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کا تعلق کمزور ہو گیا ہے۔دُعا خدا تعالیٰ کے حضور انسان کی پکار ہے اور وہ کون سا وقت ہو سکتا ہے جب انسان کسی نہ کسی تکلیف میں یا کسی نہ کسی مشکل میں مبتلا نہیں ہوتا ؟ وہ کونسا وقت ہے جب انسان قولاً یا عملاً کسی نہ کسی بات کی خواہش نہیں کر رہا ہوتا ؟ لیکن اگر اسے یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے ہر ایک تکلیف سے بچا سکتا اور اس کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے اور ہر آن اس کے نہایت ہی قریب ہے تو جس طرح ایک بچہ اپنی خواہش اور ضرورت اپنی ماں سے بیان کرتا ہے اسی طرح کیوں نہ انسان خدا سے کہے که تو میری تکلیف کو دُور فرما۔پس دُعا کی طرف رغبت ہونا ثبوت ہے خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا۔اور جتنی کسی کو دُعا کے ساتھ رغبت ہوگی اتنا ہی اسے خدا تعالیٰ سے زیادہ تعلق ہوگا اور جتنی بے رغبتی ہوگی اتنا ہی تعلق کم ہوگا۔مگر اس کا علاج بھی دعا ہی ہے جیسا کہ رسول کریم مالی اسلام نے فرمایا ہے : لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ 89