دُعائے مستجاب — Page 84
دعائے مستجاب۔توکل کر لیتا ہے تو اس کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا۔کیونکہ دُعا جوش اخلاص اور یقین کے بغیر قبول نہیں ہوا کرتی۔غرض اپنے کاموں کے علاوہ ہمیں یہ بھی دعا کرنی چاہئے کہ اے خدا جس حد تک ہماری طاقت تھی ہم نے کوشش کی۔اب تو ہی اس کام کو پورا کر دے کیونکہ یہ کام اب ہماری طاقت سے بڑھ کر ہے۔تم پہلے فرائض کو ادا کرنے کی طرف توجہ کرو۔اگر تم دُعا کرتے رہو تو مجھے کسی خطبہ کی ضرورت ہی نہیں۔اگر تمہارے اندر کمزوریاں اور خامیاں ہیں اور تم دُعا کرتے ہو کہ خدا یا تو ان کمزوریوں اور خامیوں کو دور کر دے تو تمہاری دُعا ہی ان کو دُور کر دے گی۔اگر تم نمازوں میں کمزور ہو اور تم دُعا کرتے ہو کہ خدا تعالیٰ اس کمزوری کو دور کر دے اور تمہارے اندر اس کمزوری کا احساس پایا جاتا ہے تو خدا تعالیٰ تمہاری اس کمزوری کو دُور کر دے گا اور تم خود بھی نمازوں میں پابندی اختیار کرو گے۔بہر حال اللہ تعالی کی مدد اس وقت ہی آئے گی جب تم خود بھی اپنے اندر تغیر پیدا کرو گے۔اگر تمہارے اندر جوش اور اخلاص ہے اور پھر تم دُعا کرتے ہو تو تم کامیاب ہو جاؤ گے ورنہ کا میابی تمہیں حاصل نہیں ہوسکتی۔پس ضرورت اس بات کی ہے کہ تم اپنے اندر جوش اخلاص اور یقین پیدا کرو۔میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں خا خصوصاً نو جوانوں کو کہ وہ اپنے اندر دُعا کی عادت پیدا کریں۔پرانے لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ دیکھا ہے اور ان کے اندر دُعا کرنے کی عادت پائی جاتی ہے۔اب 84