دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 68 of 173

دُعائے مستجاب — Page 68

دعائے مستجاب۔اور پھر اس میں خدا کے فضل کے انگور لگنے لگ جائیں۔اگر تم میں سے کسی نے انجیل پڑھی ہو تو اس کو معلوم ہوگا کہ روحانی بادشاہت کو انگور کے باغوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور انگور کی ہی بیل ایک ایسی بیل ہوتی ہے جس کو سبز و شاداب کرنے کیلئے خون کی کھا دڈالی جاتی ہے پس اس مثال میں اسی طرف اشارہ تھا کہ خدا کے دین کو تازہ کرنے کیلئے ہمیشہ انسانی قربانیوں کی ضرورت ہوگی اور انسانوں کے خون اس باغ کی جڑوں میں گرا کر اسے پھر زندہ اور شاداب کیا جائے گا۔پس اے دوستو آؤ کہ ہماری جانیں اسلام کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ہم میں سے ہر ایک شخص خواہ اس کو مال ملا ہے یا نہیں۔اپنی اپنی توفیق کے مطابق خدا کے سامنے اپنی قربانی پیش کر دے۔اور اس قربانی کو پیش کرنے کے بعد ایک مُردے کی طرح الہی آستانہ پر گر جائے۔یہ کہتے ہوئے کہ اے میرے خدا اے میرے خدا میری اس حقیر نذر کو قبول کر اور مجھے اپنے دروازے سے مت دھتکار۔آمین ثم آمین۔“ 66 ( الفضل ۳ دسمبر ۱۹۳۶ء) اس امر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ روحانی جنگ کا اسلحہ دُعا اور صبر ہے نہ کہ لوہے کی تلوار، حضور فرماتے ہیں: ” میری پالیسی یہی ہے کہ صبر سے کام لو اور اینٹ کا جواب اینٹ سے اور پتھر کا جواب پتھر سے نہ دو بلکہ گالیاں سنو اور خاموش رہو۔اشتعال پیدا 68