دُعائے مستجاب — Page 67
دعائے مستجاب۔کر دے اور میری کھوئی ہوئی متاع ایمان مجھے واپس عطا کر اور اگر میرا ایمان ضائع ہو چکا ہے تو اپنے خزانے سے اور اپنے ہاتھ سے اس دھتکارے ہوئے بندہ کو ایک رحمت کا بیج عطا فرما کہ میں اور میری نسلیں تیری رحمتوں سے محروم نہ رہ جائیں اور ہمارا قدم ہمارے سچی اور اعلی قربانی کرنے والے بھائیوں کے مقام سے پیچھے ہٹ کر نہ پڑے بلکہ تیرے مقبول بندوں کے کندھوں کے ساتھ ہمارے کندھے ہوں۔اے خدا بہت ہیں جو اعمال کے زور سے تیرے فضل کو کھینچ لائے۔پر ہم کیا کریں کہ ہمارے اعمال بھی اڑ گئے۔کیا تیرا رحم کیا تیرا بے انتہا رحم غیرت میں نہ آئے گا اور ہم جیسے کچھ بندوں کو بے عمل ہی اپنے فضل کی چادر میں نہ چھپالے گا۔پس تم اس طرح خدا کے سامنے زاری کرو تا کہ تمہارے دلوں کے زنگ دور ہو جائیں اور تمہاری مُردہ رُوح پھر زندہ ہو جائے اور تم کو پہلے سے بڑھ کر قربانیوں کی توفیق ملے اور تمہارے عمل کا نتیجہ پہلے سالوں سے بھی زیادہ دشمن کیلئے حسرت اور یاس کا موجب بنے۔اگر تم سچے دل سے خدا کی طرف جھکو گے تو وہ یقینا تمہارے دلوں کو کھول دے گا اور تم پر یہ ظاہر ہو جائے گا کہ خدا اور اس کے دین کیلئے جن قربانیوں کیلئے میں تم کو بلاتا ہوں انہیں میں اسلام کی بہتری ہے اور ان ہی میں اسلام کی شوکت ہے۔خدا چاہتا ہے کہ وہ اپنی قربان گاہ پر مسیح محمدی کے بڑوں کی قربانی کرے اور ان کے خون کو اسلام کی خشک شدہ انگور کی بیل کی جڑ میں ڈالے ، تا کہ وہ پھر ہری ہو جائے 67