دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 59 of 173

دُعائے مستجاب — Page 59

دعائے مستجاب۔ہے۔جب اس پر دل کے خون کے قطرے پڑے ہوئے ہوں ورنہ وہ قربانی اس کے منہ پر ماری جاتی ہے اور کہا جاتا ہے: وَيْلٌ لِلْمُصَدِّيْنَ در دو خلوص والی دُعا اور قربانی کی عظمت پس مت خیال کرو کہ دعائیں معمولی چیز ہیں۔مت خیال کرو کہ تم میں کوئی ایسا بھی ہے جسے قربانی کا موقع نہیں ملا۔تمہارے نیک ارادے اور تمہارے دل کی قربانی جبکہ تم دوسری قربانیوں میں حصہ نہیں لے سکتے اور جبکہ تم عاجزانہ اور مسکینا نہ طور پر خدا تعالیٰ کے حضور گر کر سلسلہ کی ترقیات کیلئے دعائیں کرتے ہو۔دوسروں کی قربانی سے کم نہیں بلکہ بسا اوقات ان سے بڑھ سکتی ہے کیونکہ یہ صرف قربانی ہی نہیں بلکہ ایک درد اپنے اندر رکھتی ہے۔جو انسان اپنے پاس مال نہیں رکھتا۔طاقت نہیں رکھتا۔فن نہیں رکھتا۔علم نہیں رکھتا اور دل کی قربانی پیش کرتا ہے اس کی قربانی کے ساتھ درد بھی شامل ہوتا ہے کیونکہ جب وہ دیکھتا ہے کہ دوسروں کے پاس بہت کچھ ہے مگر میرے پاس کچھ بھی نہیں جو میں پیش کروں تو اس کا دل جو عشق کی چوٹ کھایا ہوا ہوتا ہے در داور غم سے پگھل جاتا ہے۔پس وہ درد والی قربانی ہے اور درد والی قربانی کا وہ قربانی مقابلہ نہیں کر سکتی جس کے ساتھ درد نہیں۔اگر ایک مجلس میں ایک امیر آدمی خدمت دین کیلئے ایک کروڑ روپیہ پیش کر دیتا ہے تو تم اس مجلس میں نم دار آنکھیں نہیں دیکھو گے۔بے شک نعرے لگانے 59