دُعائے مستجاب — Page 58
دعائے مستجاب۔جو منگے سومر ر ہے مرے سومنگن جائے یعنی سوال کرنا موت ہے اور مانگنے والے کو چاہئے کہ وہ اپنے آقا کے دروازے پر مر جائے۔تب اُسے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔پس وہ دعا جو خدا تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوتی ہے وہ دعا جو اس کی رحمت کو کھینچ لاتی ہے وہ مضطر والی دُعا ہے۔وہ دُعا ہے جو دل کا خون کر دیتی ہے۔اگر وہ دل کا خون کسی شیشی میں گرایا جا سکے یا کسی کٹوری میں جمع کیا جا سکے تو بتاؤ وہ لوگ زیادہ قابل قدر سمجھے جائیں گے جو سونا چاندی یا پیتل خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیں یا وہ زیادہ قابل قدر سمجھا جائے گا جس نے اپنے دل کا خون خدا تعالیٰ کے آگے پیش کر دیا۔بیشک دنیا کے لوگ اس دل کے خون کی قدر نہیں کرتے کیونکہ انہیں وہ خون نظر نہیں آتا، انہیں صرف سونا چاندی اور اس کے سکے دکھائی دیتے ہیں لیکن ہمارا خداوہ ہے جو عالم الغیب ہے وہ جانتا۔ہے کہ گوا سکے ایک بندے کے پاس سونا چاندی نہیں مگر دین کے غم میں اس کا دل خون ہورہا ہے اور یہ ہمارے پاس خون دل کا ہدیہ لے کر آیا ہے جس کے مقابلہ پر سونے اور چاندی کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ ایک مالدار کے سونے اور چاندی کے سکوں کی اور ایک طاقتور کی طاقت اور قوت کی بھی وہ اسی وقت قربانی قبول کرتا ہے جب ان پر دل کے خون کی پالش ہو ورنہ وہ اُسے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔پس ایک مالدار کی قربانی اور ایک طاقتور جسم رکھنے والے کی قربانی بھی اسی وقت الہی دربار میں قبول ہوسکتی 58