دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 44 of 173

دُعائے مستجاب — Page 44

دعائے مستجاب۔اس نے آکر کہا کہ آدمی تو ان کے تین سو کے لگ بھگ ہیں لیکن اے قوم کے سردارو میں تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ ان سے لڑائی نہ کرو کیونکہ میں نے گھوڑوں پر آدمی نہیں بلکہ موتیں سوار دیکھی ہیں۔مجھے ان کے چہروں سے نظر آتا ہے کہ یا تو وہ ہمارے خون سے آج اس میدان کو رنگ دیں گے اور یا ایک ایک کر کے محمد صلی یہ تم پر جان دے دیں گے۔اگر تم ہر گھر میں ماتم بپا دیکھنا نہیں چاہتے تو آج واپس چلے جاؤ ورنہ یہ خیال مت کرو کہ مسلمان پیٹھ دکھا کر بھاگ جائیں گے۔یہ مقابلہ بھی ایک ظاہر بین نگاہ کیلئے اسی طرح مضحکہ خیز تھا جیسے اُحد کا۔اس دن منافقوں نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ اگر ہم جانتے کہ لڑائی ہوگی تو ضرور جاتے مگر یہ تو صریحاً بیوقوفی کی بات تھی کجا مکہ کے تجربہ کار اور بہادر اور کجا یہ تھوڑے سے سپاہی۔بدر کی جنگ دُنیا داروں کی نگاہ میں اس سے بھی زیادہ غیر مساوی مقابلہ تھا اور اس لئے ان کی نگاہ میں مضحکہ خیز لیکن اس دن بھی واقعات نے بتا دیا کہ انسانی تدابیر جہاں جاکر رہ جاتی ہیں وہاں الہی نصرت غیر معمولی کامیابیوں کے سامان پیدا کر دیتی ہے۔مکہ والوں نے جلدی کر کے اس جگہ پر قابو پالیا جو اُن کے نزدیک لڑائی کیلئے زیادہ مفید ہوسکتی تھی۔دو زمین مضبور تھی جس پر پاؤں زیادہ مضبوطی سے رکھا جاسکتا تھا۔مگر مسلمانوں کے لئے جو جگہ خالی تھی وہ ریتلی تھی جس پر عام حالات میں قدم جمانا مشکل تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے 44