دُعائے مستجاب — Page 26
دعائے مستجاب۔ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں آنکھیں نہ نوچ لے۔اسے اللہ تعالیٰ نے چھلانگ لگانے کی طاقت اور تیز پنج دیئے ہیں۔اور جب وہ چھلانگ لگا کر کسی پر حملہ کرے تو وہ اپنا بچاؤ نہیں کرسکتا۔بٹیر تیتر وغیرہ کیسے چھوٹے چھوٹے پرندے ہیں لیکن جب کوئی شخص انہیں پنجرے سے نکالنے لگے اور وہ چونچ ماریں تو آدمی گھبرا کر ہاتھ باہر کھینچ لیتا ہے۔تو کوئی چیز ایسی نہیں جس کی حفاظت کا سامان اللہ تعالیٰ نے نہ کیا ہو۔انسان ہی ہے جس کی حفاظت کا کوئی ظاہری سامان نہیں۔یعنی اسے نہ تو اللہ تعالیٰ نے ویسے ہاتھ دیئے ہیں جیسے بعض جانوروں کو پنجے نہ ویسے ہونٹ دیئے ہیں جیسے بعض کو چونچ۔نہ ویسی لاتیں دی ہیں جیسی دوڑ کر جان بچانے والے جانوروں کو دی ہیں۔نہ اس کا قد اتنا چھوٹا بنایا ہے کہ وہ چھپ کر اپنا بچاؤ کر سکے۔۔۔بے شک انسان کو دماغی قابلیت دی ہے مگر اس کے نتیجہ میں ایسی قومیں بھی ہیں جنہوں نے دماغی طاقتوں سے کام لیتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا اور بعض دوسری قوموں کو محروم کر دیا۔دنیا میں باقی جو جاندار ہیں ان میں سے کسی ایک کو کبھی بحیثیت قوم کوئی حفاظت کے سامان سے محروم نہیں کر سکتا۔کسی بڑے سے بڑے بادشاہ میں یہ طاقت نہیں کہ وہ حکم دے سکے کہ آئندہ کیلئے کبوتروں یا چڑیوں کے پر نہیں ہوں گے۔۔۔مگر دنیا میں ایسے انسان ضرور ہیں جو دوسرے انسانوں کو ان کی حفاظت کے سامانوں سے محروم کر دیتے ہیں۔اس لئے سوال یہ ہے کہ جب حالات ایسے پیدا ہو سکتے ہیں کہ قوموں کی 26