دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 22 of 173

دُعائے مستجاب — Page 22

دعائے مستجاب۔احمدیت چاہتی ہے کہ ہم ہر قسم کی قربانی کریں۔آج کل جنگ کی وجہ سے ( جنگ عظیم دوم۔ناقل ) چونکہ خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔اس لئے قربانیوں میں بھی پہلے سے بہت زیادہ حصہ لینے کی ضرورت ہے مگر ہمارے پاس نہ فوجیں ہیں۔نہ تو ہیں ہیں۔نہ ہوائی جہاز ہیں۔نہ گولہ بارود ہے۔ہمارے پاس صرف دُعا کا ہتھیار ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سے بڑا ہتھیار اور کوئی نہیں بشرطیکہ دُعا اخلاص کے ساتھ کی جائے۔بشرطیکہ انسان کے دل میں تڑپ ہو۔بشرطیکہ اسے یہ فہم ہو کہ احمدیت خطرے میں ہے۔اگر یہ حالت ہو تو دعاؤں کی قبولیت بہت زیادہ یقینی ہو جاتی ہے۔لیکن یونہی ہاتھ اُٹھا لینا یا زبان سے چند الفاظ کہہ دینا دُعا نہیں ہوتی۔ایسی دُعا انسان کے منہ پر ماری جاتی ہے۔“ (الفضل ۲۸ مارچ ۱۹۴۱ء) دُعا کے سلسلہ میں بعض لوگوں کو یہ الجھن پیش آتی ہے کہ کیا سب دُعائیں قبول ہوتی ہیں یا نہیں؟ اور یہ بھی کہ بہت ممکن ہے کہ کوئی دُعا کرنے والا اپنی لاعلمی یا کسی اور وجہ سے کسی ایسے امر کیلئے دُعا کر رہا ہو جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کاملہ یا مفاد عامہ کے خلاف ہو تو کیا ایسی دُعا قبول ہوتی ہے یا نہیں ؟ اگر ایسی دُعا قبول نہیں ہوتی تو خدا تعالیٰ کے اس وعدہ کا کیا مطلب ہے کہ تم مجھ سے دُعا مانگو۔میں اُسے قبول کروں گا۔ایسے سوالوں کے جواب میں حضور فرماتے ہیں: وو " جب ایک شخص دُعا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کے سامنے جاتا ہے اور وہ پوری طرح اپنا نفع اور نقصان سمجھ کر جاتا ہے تو ایسی حالت میں اگر وہ کوئی 22