دُعائے مستجاب — Page 21
دعائے مستجاب۔گدڑی پہنی ہوئی ہے اور اس میں جوئیں پڑی ہوئی ہیں وہ بے چارہ تو جوش محبت میں اس طرح پیار کی باتیں کر رہا تھا کہ گویا خدا ایک معصوم بچہ ہے جو اس نے اپنی گود میں اٹھایا ہوا ہے۔مگر جب اُسے سوٹا پڑا تو دل پکڑ کر اور مایوس ہو کر بیٹھ گیا۔اسی وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر الہام نازل کیا کہ اے موسیٰ“ تو نے آج ہمارے بندے کا دل بہت دکھا یا۔اے موسی" تو اپنے علم کے مطابق ہم سے محبت کرتا ہے اور وہ اپنے علم کے مطابق ہم سے محبت کا اظہار کر رہا تھا۔تیرا کیا حق تھا کہ تو اُس کی باتوں میں دخل دیتا۔ہمیں تو اُس کی یہی باتیں پیاری لگ رہی تھیں۔“ دوسری مثال بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے۔ایک بندہ اللہ تعالیٰ سے دُعا کر رہا تھا کہ تو میرا اللہ ہے اور میں تیرا بندہ ہوں مگر دُعا کرتے کرتے اُسے کچھ ایسا جوش آیا کہ وہ حالت بے اختیاری میں کہنے لگا۔اے اللہ میں تیرا رب ہوں اور تو میرا بندہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب اس نے یہ کہا تو اللہ تعالیٰ کو اس کی یہ بات بڑی ہی پیاری معلوم ہوئی کیونکہ جوش محبت میں اُسے یہ ہوش ہی نہ رہا کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے اور کیا کہہ رہا ہے۔“ (الفضل ۵ نومبر ۱۹۴۱ء) وہی دُعا مقبول ہے جو جذبہ اور تڑپ کے ساتھ کی جائے۔اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: 21