دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 101 of 173

دُعائے مستجاب — Page 101

دعائے مستجاب۔پڑھا جائے یا تسبیح وتحمید کی جائے اور بعض اوقات بغیر تعین کے عام ذکر اور تسبیح وتحمید کا حکم ہوتا ہے۔اس امر کی حکمت بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: ” بے حساب ذکر میں بھی خوبی ہوتی ہے اور با حساب ذکر میں بھی خوبی ہوتی ہے۔با حساب میں تو یہ خوبی ہوتی ہے کہ انسان اس کے متعلق تعہد سے کام لیتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ میں اتنی بار ضرور ذکر کروں اور بے حساب میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ انسان اپنے محبوب کو یاد کرتے وقت گفتی کو مد نظر نہیں رکھتا بلکہ اپنے عشق کے تقاضا کو پورا کرنے کیلئے ہر وقت اپنے محبوب کا نام زبان پر جاری رکھتا ہے۔پس دونوں میں خوبیاں ہیں۔باحساب میں بھی خوبیاں ہیں اور بے حساب میں بھی خوبیاں ہیں۔در حقیقت تسبیح وتحمید تو ایک ایسی چیز ہے جو مومن کے دل سے ہر وقت نکلتی رہتی ہے۔کھانا کھاتے ہوئے ، پانی پیتے ہوئے، کپڑے پہنتے ہوئے ، اُٹھتے ہوئے ، بیٹھتے ہوئے ، چلتے ہوئے ، ٹھہرتے ہوئے ، سوتے ہوئے، جاگتے ہوئے ، ہر وقت اور ہر حالت میں خدا کی طرف متوجہ رہتا ہے اور بات بات پر اس کے منہ سے سبحان اللہ اور الحمد للہ نکل جاتا ہے۔اس طرح خواہ وہ با حساب ذکر کرتا ہو پھر بھی وہ بے حساب ہی بن جاتا ہے اور وہی اصل ذکر ہوتا ہے۔جس ذکر کیلئے انسان کو ۲۴ گھنٹے انتظار کرنا پڑے اور کہے کہ جب فلاں وقت آئے گا تو اس وقت ذکر کروں گا وہ ذکر نہیں کہلا سکتا۔ذکر وہی ہے جو ہر وقت اور ہر حالت میں انسان کی زبان پر جاری 101