حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 88
مارشاہ صاحب۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔ہوا اور سید حبیب اللہ شاہ صاحب ریفری ہوں۔دوڑ میں حضرت صاحبزادہ صاحب جیت گئے۔لیکن میں نے ہار نہ مانی۔اس پر صاحبزادہ صاحب کے کہنے پر دوبارہ دوڑ ہوئی۔اس میں بھی صاحبزادہ صاحب کامیاب ہوئے۔وہ بہت ہی الفت ومحبت کا زمانہ تھا۔آقا اور آقازادے باہم رشتہ اخوت میں منسلک تھے۔خاکسار کے استفسار پر سید عبدالرزاق شاہ صاحب ( مرحوم ) آپ کے بھائی نے تحریر کیا تھا کہ ڈاکٹر سید حبیب اللہ شاہ صاحب دینی غیرت اور قرآن مجید سے عشق رکھتے تھے اور نمازوں اور تہجد میں با قاعدہ تھے۔ایک دفعہ ان کی انگریز بیوی نے مجھے کہا کہ حبیب گاڈ (God) کو Disturb ( پریشان) کرتا ہے اور رونے والا منہ بنا کر کہا کہ وہ اس طرح منہ بنا کر روتا ہے۔ڈاکٹر صاحب راولپنڈی سنٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ تھے۔داروغہ نے بے وقت آ کر شکایت کی کہ قیدی کنچنی بہت تنگ کر رہی ہے اور سب کو گندی گالیاں دے رہی ہے اور بے قابو ہے۔آپ نے کہا کہ میں آتا ہوں۔آپ نے دو نفل ادا کر کے دعا کی اور موقعہ پر پہنچے۔وہ کھڑی تھی۔آپ کو دیکھتے ہی زبان بند ہوگئی اور وہ کا پنپنے لگی۔آپ حضرت خلیفہ المسیح الثانی (اللہ آپ سے راضی ہو ) سے بہت محبت رکھتے الہ تھے اور حضور سے بے تکلف تھے۔لیکن حضور کا پاس ادب بھی تھا۔ایک دفعہ آپ کی دعوت پر حضور مع سیدہ ام طاہر صاحبہ مادھو پور (ضلع گورداسپور ) کے نہر کے بنگلہ میں تشریف لے گئے۔ان کی انگریز بیوی نے کچھ کہا ہوگا۔( کیونکہ وہ اپنے تمدن کے مطابق مہمانوں کا زیادہ وقت قیام پسند نہیں کرتے ) تو حضور نے سیدہ ام طاہر صاحبہ کو کہا کہ اب چلتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے باوجود پاس ادب کے حضور ( خلیفہ اسیح الثانی اللہ آپ۔راضی ہو ) کو چھا مار کر صوفے پر بٹھالیا اور کہا کہ میں آپ کو اس طرح نہیں جانے دوں آخری عمر میں جب کہ ڈاکٹر صاحب بیماری کی وجہ سے بیمار ہو گئے تھے ربوہ تشریف لائے اور چند دن کے بعد آپ کے کہنے پر میں آپ کو سیالکوٹ چھوڑنے گیا جہاں آپ کو مکان الاٹ تھا اور آپ کا قیام تھا۔اس وقت تقسیم ملک کے بعد مخالفت احمدیت کے شدید فسادات شروع ہو چکے تھے۔آپ فکرمندی کی وجہ سے راستہ میں بار بار کہتے کہ اب جماعت کا کیا بنے گا۔میں رات وہاں ٹھہرا۔تو خواب دیکھا کہ میں کار میں سڑک پر کھڑا