حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 74 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 74

رشاہ صاحب باب سوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اولاد ہونے کی وجہ سے دونوں کا باہم گہراتعلق تھا۔تقسیم ملک سے پہلے سالہا سال تک آپ کا قیام حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ کے ہاں رہا۔آپ کی طبیعت میں بے حد سادگی تھی۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ ) آپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی۔اور فرش پر بیٹھنے لگی تو حضور علیہ السلام نے اصرار کر کے مجھے چار پائی پر بٹھلایا اور فرمایا کہ آپ سید زادی ہیں اور کئی دفعہ دیکھ کر حضور اکر اما اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے بیان کیا کہ حضور کے اٹھ کھڑے ہونے کی بات میں نے خود محترمہ خالہ جان سے سنی ہے۔لیکن یہ یاد نہیں کہ ہمیں دیکھ کر اٹھنے کا ذکر کیا تھا یا ” مجھے “۔درایہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ اپنی والدہ کے ہمراہ آتی ہوں گی تو والدہ صاحبہ کی تعظیم کے لئے حضور اٹھتے ہوں گے۔وصال الفضل میں نہایت افسوس کے ساتھ خبر دی گئی کہ محترمہ خیر النساء بیگم صاحبہ جو سید لال شاہ صاحب مرحوم کی اہلیہ، حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب (اللہ آپ یسے راضی ہو ) کی صاحبزادی اور محترم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کی ہمشیرہ تھیں ۱۹ جنوری ۱۹۶۲ء کو بعمر چھہتر سال وفات پاگئیں۔انا للہ وا نالیہ راجعون۔محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس نے احاطہ ( بیت ) مبارک ربوہ میں نماز جنازہ پڑھائی جس میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد اور اہل ربوہ بہت کثیر تعداد میں شریک ہوئے اور آپ کو قطعہ ( رفقاء) میں بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔پیدائشی احمدی ہونے کے با وجو دانہوں نے ۱۹۰۲ء میں خود بھی بیعت کی۔بہت نیک ،صوم وصلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار اور ہر آن ذکر الہی میں مصروف رہنے والی خاتون تھیں۔( دین حق ) اور سلسلہ احمدیہ اور (مربیان) سلسلہ کے لئے ہر وقت دعا گو رہتی تھیں۔سید بشیر احمد شاہ صاحب منیجر دوا خانہ خدمت خلق ربوہ آپ کے اکلوتے فرزند اور آپ کی ایک بیٹی آپ کی یاد گار ہیں۔(روز نامه الفضل ربوه ۲۱ جنوری ۱۹۶۲ء) نوٹ: آپ سے مروی بعض روایات ذکر حبیب کے باب میں شامل کی گئی ہیں