حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 47
رشاہ صاحب باب دوم۔۔سیرت و اخلاق کہ اندر! ایسا نہ ہو کہ ہم جنت میں ہوں اور تم وہاں نہ جاؤ۔یہ بھی بتایا کہ مائی صاحبہ اور ڈاکٹر صاحب مجھ سے بچوں جیسا سلوک کرتے تھے۔میں کم عمر تھا۔خاکسار مؤلف نے یہ بات سن کر ان سے کہا کہ یہ دونوں بزرگ اور ان کی اولاد میں سے بعض وفات پاچکے ہیں۔اور آپ بھی ستر بہتر سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔( دین حق ) کی صداقت کے آپ قائل ہیں۔آپ مخفی بیعت کر لیں۔آپ نے کہا میں ایک ہفتہ بعد بتاؤں گا۔اگلے ہفتہ آکر میرے ذریعہ آپ نے بیعت کر لی اور پھر چندہ تحریک جدید میں بھی شامل ہوئے۔تھوڑا عرصہ بعد آپ وفات پاگئے تو ان کے بچوں کے پاس پیغام بھجوایا گیا کی نعش وہ ہمارے سپرد کر دیں تا کہ ہم تدفین کر سکیں۔تو انہوں نے کہلا بھیجا کہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ ( دین حق ) قبول کر چکے تھے۔شفا خانہ میں داخل کرتے تو نعش احمد یہ جماعت کے سپر دہی رہتی۔اب اقارب میں سے نعش نکال کر قادیان بھجوانا ہمارے لئے ممکن نہیں۔چند دن بعد ناظر امور عامه مکرم مولوی برکات احمد صاحب را جیکی بی اے، خاکسار اور چودھری منظور احمد صاحب منیر چیمہ درویش کو لے کر تعزیت کے لئے گئے۔گاؤں کے قریب ایک سکھ زمیندار سے ان کے کنویں پر ہم ملے۔جو دیکھتے ہی کہنے لگا کہ آپ بابا اندر جی کی وفات کی وجہ سے آئے ہیں؟ وہ پکے احمدی تھے۔چارہ کاٹنے آتے تو احمد یہ لٹریچر ساتھ لاتے اور ( دعوۃ الی اللہ ) کرتے۔سب کو معلوم ہے کہ وہ (احمدیت ) قبول کر چکے تھے۔تابعین احمد جلد سوم، با رسوم صفحه ۳۱۵،۳۱۴) میں تجھے ایک بیٹا دوں گا حضرت مولانا برکات احمد صاحب را جیکی محترم بابا اندر کی روایت بیان کرتے ہے ” جب میں رعیہ ضلع سیالکوٹ میں حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب اللہ آپ سے راضی ہو) کے ہاں ملازم تھا تو ایک دفعہ حضرت شاہ صاحب ۴۹