حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 43
مارشاہ صاحب باب دوم۔۔سیرت و اخلاق بزرگوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔تھوڑی دیر بعد حضرت مولوی صاحب پر غنودگی کی حالت طاری ہوگئی جس کے دور ہونے پر آپ نے بتایا کہ میں نے ابھی کشف میں دیکھا ہے کہ سید ولی اللہ شاہ صاحب عسل خانہ سے نہا کر باہر نکلے ہیں۔اور ان کے بالوں سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہیں۔اور وہ دعا کر رہے ہیں کہ جس مقصد کے لئے میں آیا ہوں۔اللہ تعالیٰ وہ پورا کرے۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ اس نظارہ سے مجھے یقین ہے کہ سید ولی اللہ شاہ صاحب بخیریت اور صحیح سالم ہیں۔سوسب کو اطمینان ہوا۔چنانچہ بعد میں سید ولی اللہ شاہ صاحب بخیریت واپس آئے“۔تابعین احمد جلد سوم با رسوم صفحہ کا ) آپ کے دیرینہ خادم بابا اندر جی کا تعارف مکرم و محترم ملک صلاح الدین ایم۔اے آف قادیان تحریر کرتے ہیں:۔بابا اندر جی کی شہادت بہت وقیع ہے۔باباجی ۱۹۵۰ء کے لگ بھگ قادیان میں ہمارے دفتر مقامی میں آئے اور بتایا کہ تقسیم ملک پر خود میجر ڈاکٹر سید حبیب اللہ شاہ صاحب نے ایک موٹر کا انتظام کر کے میرے سارے خاندان کو ہندوستان بھجوایا۔میں کوئی ستائیس سال بطور وارڈ قلی رعیہ ہسپتال میں حضرت ڈاکٹر سید عبدالستاری شاہ صاحب کے ساتھ رہا ہوں۔میں موضع تلونڈی جھنگلاں میں آباد ہوں تقسیم ملک سے پہلے بھی چندہ دیتا تھا۔گواب میں کوئی کام نہیں کرتا۔اور میری اولا د میرے اخراجات کی کفیل ہے آنے کے بعد سے جمع کر رہا ہوں اور آپ نے ایک پوٹلی ہمارے سپرد کی یہ چندہ خزانہ میں جمع کرا دیا گیا۔آپ حضرت ڈاکٹر صاحب کے خاندان سے والہانہ محبت رکھتے تھے اور ان کی خیریت پوچھتے رہتے تھے اور محبت کی وجہ سے کچھ رقم اس خاندان کے بعض بچوں کے لئے ہدیہ کے طور پر خاکسار کے ذریعہ بھجواتے تھے۔آپ ربوہ کے بزرگان کی خیریت معلوم کر کے خوش ہوتے۔آپ کسی کی بیماری کی خبر سنتے یا خاکسار کسی بات کے لئے دعا کے ۴۵