حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 35
رشاہ صاحب باب دوم۔۔۔۔سیرت و اخلاق نماز اور دعائیں میری طبیعت میں رچ گئی ہیں، حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب ہمہ وقت دعا گو شخصیت تھے اور اپنی ستر سالہ حیات طیبہ میں نماز اور دعاؤں کو اپنی طبیعت ثانیہ اور فطرت ثانیہ بنا کر خوبصورت عملی نمونہ پیش فرمایا اور احباب کرام سے بھی اس بات کی توقع رکھتے تھے کہ اپنی زندگیوں میں نماز اور دعاؤں کو فطرت ثانیہ اور اپنی عادات بنالیں۔آپ اپنی حیات طیبہ کی بابت بیان فرماتے ہیں:- اور دعاؤں کو اپنی غذا اور پانی مثل غذا جسمانی بنالو۔اور اپنی ایک طبع ثانی میں شامل کر لو۔اور مایوسی کو تم زہر قاتل اور ہلاک کنندہ روح و جسم سمجھو۔العیاذ باللہ۔اب اس جگہ میں بطور تحديث بالنعمۃ کے اور ترغیب مخلوق الہی کی غرض سے اپنا تجر بہ بابت استجابت دعا تحریر کرتا ہوں۔شاید تمہیں بھی ترغیب اور شوق پیدا ہو۔میں بخدا سچ کہتا ہوں۔کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے۔اور غالباً بلوغ سے اوّل عالم طفولیت میں ہی نماز اور دعاؤں سے مجھ کو ایک دلچپسی جس کو ٹھرک کہتے ہیں ، بفضل خدا میری طبیعت میں ایسے رچ گئی کہ میں اس کے بغیر رہ نہیں سکتا تھا۔اور آرام و قرار نہیں پکڑ سکتا تھا۔اور اس کو ایک غذا جسمانی کی طرح سمجھتا تھا۔شاید چونکہ میں پانچ یا چھ سال سے یتیم و یک رہ گیا تھا۔اور یہ زمانہ یتیمی بھی اس کا محرک ہوا ہو۔اس لئے یہ بھی اس ذات الہی کا رحم اور فضل تھا کہ میں ہر ایک حاجت کیا چھوٹی کیا بڑی۔سب میں دعاؤں سے کامیاب ہوتا رہا۔میرے ساتھ ہمیشہ عادت اللہ یہی کام کرتی رہی۔کہ تا وقتیکہ میں اپنی ضروریات سائلا نہ طور پر اول سے عرض نہ کر لوں میری مشکل آسان اور کامیابی نہیں ہوتی تھی۔جیسا کہ ایک بچہ شیر خوار جب تک دودھ کے لئے اپنی تڑپ اپنے چہرہ وحرکات سے اپنی والدہ پر ظاہر نہ کرے تب تک اس کی توجہ کامل طور پر مبذول نہیں ہوتی۔یہی حال رب اور فیاض مطلق کا ہے اور کثرت سے میری دعائیں قبول ہوتی رہی ہیں۔شاید سو دعاؤں میں دس یا ہیں حسب مدعا میری قبول ۳۷