حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 26 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 26

شاہ صاحب باب اول۔۔۔۔۔ابتدائی حالات اس وقت مجھے اتنی ہی توفیق ہے۔آپ کیسی کو نہ بتا ئیں۔آپ نے وفات سے پہلے اپنے پار چات مساکین میں تقسیم کر دئیے۔رات ایک بجے پیکا یک دل کی حرکت بند ہونے سے آپکی وفات ہوئی۔وہ ہمیشہ دعا کرتی تھیں کہ جان کنی کی تکلیف سے اللہ تعالیٰ بچائے۔سوالیسا ہی ہوا اور آرام سے وہ چل بسیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ نے بچپن سے آخر تک عمر عبادت الہی میں گزاری۔بچپن اور جوانی میں اپنوں اور دوسروں میں ”پارسا“ کے لقب سے مشہور تھیں۔بیعت کے بعد آپ کے عبادت و ذکر الہی کی کیفیت پانی اور مچھلی کی سی ہوگئی تھی۔آپ دن رات انتھک دعائیں اور ذکر الہی کرنے والی اور تقویٰ و طہارت کا بہترین اسوہ تھیں۔رات کو بارہ ایک بجے کے بعد آپ بیدار ہو جاتیں اور صبح تک نماز میں مشغول رہتیں۔بسا اوقات رقت سے زار زار روتیں اور صلى الله ہچکیاں بندھ جاتیں۔ساتھ ہی حضرت رسول کریم ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دونوں کے آل اور ( رفقاء کرام ) اور جماعت احمدیہ کے لئے دعائیں کرتیں۔جماعت ہائے سیالکوٹ ، حیدر آباد اور لنڈن مشن وغیرہ جن افراد اور جماعتوں کے نام یاد ہوتے نام لے کر تفصیلاً ان کی دینی و دنیوی ترقیات کے لئے اور تمام جماعت کے لئے آپ دعائیں کرتی تھیں۔پھر اشراق کی نماز ادا کرتیں۔ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کے درمیان عبادت میں مشغول رہتیں۔گویا دن رات کا بڑا حصہ اسی عبادت و ذکر الہی میں صرف ہوتا جو آپ کی زندگی کی روح رواں بن گیا تھا۔سخت بیماری میں بھی آپ ایسا ہی کرتیں۔جب گھر میں سے کوئی حکم الہی کا ذکر کرتا کہ اپنی طاقت سے بڑھ کر اپنی جان کو تکلیف نہ دو تو فرماتیں۔میری جان کو تو اس سے راحت ہوتی ہے۔آخری مرض تک میں آپ باجماعت نماز ادا کرتی تھیں۔کئی کئی گھنٹے کی عبادت سے آپ کو تھکاوٹ نہ ہوتی۔آپ دوسروں کو بتاتیں کہ نماز تو وہ ہوتی ہے جب انسان عرش معلیٰ پر جا کر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کرے۔میں نماز سے سلام نہیں پھیرتی جب تک ۲۶