حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 20 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 20

ناه صاح باب اول۔۔۔۔ابتدائی حالات کو رنج ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ حضرت قبلہ والد صاحب مرحوم ایک بیش بہا وصیت اپنے ہاتھ سے رقم فرما گئے ہیں۔اور وہ محفوظ تھی جسے اب کھولا گیا ہے۔اس میں انہوں نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ بزرگان سلسلہ سے درخواست کرتے رہنا کہ وہ ان کے لئے فوت ہو جانے کے بعد دعائیں کرتے رہیں۔اور یہ کہ جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی بہشتی مقبرہ میں تشریف لے جائیں تو ان سے بھی درخواست کی جائے کہ سید عبد الستار شاہ (اللہ آپ سے راضی ہو ) کی قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعائے رحمت فرما ئیں۔سوان کی اس درخواست کے مطابق میں احباب سے درخواست کرتا ہوں۔کہ وہ اس کو قبول کر کے شکریہ کا موقع دیں۔میں نے ہر اس دوست کو جس نے مجھے خط لکھا ہے۔بذریعہ ڈاک ان کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے ان سے درخواست کی ہے۔کہ وہ اپنی اپنی جگہوں پر تحریک کر کے قبلہ والد صاحب مرحوم کے جنازہ کا انتظام کریں۔اور اب اخبار کے ذریعہ سے بھی یہی درخواست دہراتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ( رفقاء) کرام میں سے ایک ایک کی زندگی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت و برکات کے لئے زندہ نشان ہے۔احمق انسان حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ذات ستودہ صفات پر اعتراض کرتا ہے۔وہ ذات جس کے مبارک ہونے کے متعلق اللہ تعالیٰ کی مہر ثبت ہو چکی ہے کہ اسے کوئی توڑ نہیں سکتا۔وہ ذات تو الگ رہی بلکہ میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ( رفقاء) کرام میں ہر ایک نے اپنے اندر ایک خوارق عادت نمونہ دکھلا کر یہ شہادت قائم کی ہے۔کہ ان کی زندگی کے اندر انقلاب پیدا کرنے والا انسان لاریب ایک ربانی پارس تھا۔جس کو چھو کر وہ پاک وصاف ہو گئے۔ان ( رفقاء) کرام میں سے حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ذات اپنوں اور غیروں کے لئے ہمیشہ سر چشمہ رحمت رہی ہے۔اور آپ کا وہ سلوک جو آپ کا ہر ملاقات کرنے والے کے ساتھ تھا۔سفارش کرتا ہے کہ آپ کی اس درخواست کو قبول کیا جائے۔الفضل قادیان ۲۰ جولائی ۱۹۳۷ ء صفحہ ۸) ۲۰