حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 12 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 12

رشاہ صاحب باب اول۔۔۔۔۔۔ابتدائی حالات ڈاکٹر صاحب نے عرض کی کہ حضور میرا ارادہ بھی ہے کہ اگر زندگی باقی رہی تو انشاء اللہ بقیہ حصہ ملازمت پورا کرنے کے بعد مستقل طور پر یہاں ہی رہوں گا۔فرمایا: یہ سچی بات ہے کہ اگر انسان توبتہ النصوح کر کے اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی زندگی وقف کر دے اور لوگوں کو نفع پہنچا وے تو عمر بڑھتی ہے۔اعلاء کلمتہ ( دین حق ) کرتا رہے اور اس بات کی آرزور کھے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پھیلے۔اس کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان مولوی ہو یا بہت بڑے علم کی ضرورت ہے بلکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا رہے۔یہ ایک اصل ہے جو انسان کو نافع الناس بناتی ہے اور نافع الناس ہونا درازی عمر کا اصل گر ہے۔فرمایا۔تمہیں سال کے قریب گذرے کہ میں ایک بارسخت بیمار ہوا۔اور اس وقت مجھے الہام ہوا أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ۔اس وقت مجھے کیا معلوم تھا کہ مجھ سے خلق خدا کو کیا کیا فوائد پہنچنے والے ہیں لیکن اب ظاہر ہوا کہ ان فوائد اور منافع سے کیا مراد ہے۔غرض جو کوئی اپنی زندگی بڑھانا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ نیک کاموں کی ( دعوۃ) کرے اور مخلوق کو فائدہ پہنچا دے۔جب اللہ تعالیٰ کسی دل کو ایسا پاتا ہے کہ اس نے مخلوق کی نفع رسانی کا ارادہ کر لیا ہے تو وہ اسے توفیق دیتا اور اس کی عمر دراز کرتا ہے۔جس قدر انسان اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اس کی مخلوق کے ساتھ شفقت سے پیش آتا ہے اسی قدر اس کی عمر دراز ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اُس کے ساتھ ہوتا اور اس کی زندگی کی قدر کرتا ہے لیکن جس قدر وہ خدا تعالیٰ سے لاپر واہ اور لا ابالی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ بھی اس کی پرواہ نہیں کرتا۔انسان اگر اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی زندگی وقف نہ کرے اور اس کی مخلوق کے لئے نفع رساں نہ ہو تو یہ ایک بریارا ور نکلتی ہستی ہو جاتی ہے بھیڑ بکری بھی پھر اس سے اچھی ہے جو انسان کے کام تو آتی ہے لیکن یہ جب اشرف المخلوقات ہوکر اپنی نوع انسان کے کام نہیں آتا تو پھر بدترین مخلوق ہو جاتا ہے۔اسی کی ۱۲