حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 208 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 208

مارشاہ صاحب باب ہفتم۔جان بھی شہید کابل کی طرح اس سلسلہ میں قربان کر دی ہے۔تمام مخلوق کی ہدایت اور ترقی درجات مومنان گذشته و موجودہ جماعت احمدیہ و دیگر صلحاء امت محمدیہ خصوصاً خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہبودی و ترقی درجات کیلئے دعائیں کرتے رہو۔میرا قرضہ موجودہ حالت میں جو میرے ذمہ ہے یہ ہے کہ ایک ہزار روپیہ بابت زمین سہالہ۔ایک سو روپیہ عزیزم چوہدری حاجی احمد صاحب کا۔پچاس روپیه عزیزم مولوی غلام رسول صاحب کے۔پانچ سوروپیہ عزیزم بھائی محمود احمد کا۔* میری قبر روضہ بہشتی یعنی مقبرہ بہشتی میں اپنی والدہ صاحب مرحومہ کی خالی ماندہ جگہ میں کی جاوے۔میری زندگی اور وفات کے بعد بھی تم پر فرض ہے کہ اپنے والدین کی مغفرتِ گناہ اور ترقی درجات کیلئے دعائیں کرتے رہو۔بلکہ سب خاندان گذشتہ کے لئے خود اور دوسرے بزرگان وصلحاء امت سے کراتے رہو اور ممکن ہو تو قبر یر خود آ کر اور دوسرے نیک مومنوں کو لا کر بھی خصوصاً خلیفہ وقت اگر بہشتی مقبرہ میں تشریف لاویں تو ان سے ہماری قبروں پر ضرور دعا کرائی جاوے۔مکانات جو قادیان میں تمہارے ہوں ان سب کو بیت الدعا بناؤ اور کثرت سے اپنے اپنے مکانوں کو اذان ، نوافل، نماز با جماعت سے رونق دو۔اور دعا ئیں ہمیشہ مانگتے رہوتا کہ ان مکانات میں فیوض اور برکات الہیہ کا نزول ہو اور نحوست اور شقاوت اور عذاب اور ابتلاء اور بیماری وغیرہ تکالیف جو شامت اعمال کا نتیجہ ہیں، ان سے تم محفوظ رہو۔اور اگر اللہ تعالیٰ تم کو تو فیق دیوے تو کچھ آدمی جو نیک متقی صالح و غریب اور ہمدرد ہوں ان کو ملازم رکھ لو اور ان کے اخراجات ضروری کے تم خود ذمہ وار ہو جاؤ تا کہ اُن کو معیشت و گزران مایحتاج کا کوئی فکر نہ رہے۔ان کا کام یہ ہو کہ وہ لگا تار باری باری بطور ڈیوٹی اور فرض منصبی کے ہر وقت دعاؤں میں جو ترقی (دین حق ) و ترقی یہ قرضہ بھی بفضلہ تعالیٰ ادا ہو چکا ہے۔۲۱۰