حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 197
شاہ صاحب باب ہفتم۔ضرور ادا کرنا ہوگا کیونکہ تمہاری والدہ حج کے شوق میں تڑپتی چلی گئیں ہیں۔سوم دو ہزار روپیہی تم سب مل کر اس طرح خرچ کرو کہ پانچ سوز کو ۃ فنڈ اپنے اپنے والدین کی کمی زکوۃ پورا کرنے کیلئے۔پانچ سو روپیہ فنڈ وصایا میں۔سو میری طرف سے مدد یتامی ومساکین میں بطور کفارہ کسی قسم کی خیانت ذاتی یا غیر ذاتی کے ازالہ کیلئے اور مبلغ پانچ سو قرضہ سمی پیراند نہ متوفی کی بابت جہاں خلیفہ وقت جس جس مد میں خرچ کرنے کی اجازت دیدیں۔باقی اگر میری کوئی جائیداد رہ جائے تو حسب حکم میراث قرآن شریف اقرباء و حقداروں نرینہ وزنانہ میں بموجب حصص شرعیہ تقسیم ہو جائے۔اگر کوئی حق وصیت مقبرہ بہشتی سے تمہارے والدین کے ذمہ باقی ہو تو وہ بھی فوراً ادا کیا جائے۔چہارم اپنی بیوہ ہمشیرگان اور ان کی یتیم اولاد کی پرورش و تربیت میں، جب تک و قابل ولائق گزارہ معاشرت دنیا نہ ہو۔سب مل کر امداد دیتے رہو اور ان یتیموں کو دیندار بھی بنانے میں کوشاں رہو۔موجودہ حالت میں تمہاری تین ہمشیرگان ہیں ان کی دلجوئی اور ہمدردی میں تم سب کوشاں رہو۔اپنی والدہ مرحومہ کی قبر کے پاس جو خالی جگہ ہے وہاں میری قبر ہو۔* تم سب اپنی اپنی وصیتیں بہشتی مقبرہ کیلئے تحریر کر دو کیونکہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ہشتم سیہالہ والا مکان و زمین جو بھائی تم سے لینا چاہے وہ گیارہ سو روپیہ یعنی ایک ہزار قرض کا اور ایک سو عزیز حاجی احمد صاحب کا روپیدا دا کر کے زمین آپ کی یہ آرزو بھی اللہ تعالیٰ نے پوری فرمائی۔ہر دو بزرگان کی قبریں بہشتی مقبرہ قادیان میں ہیں۔مرتب ۱۹۹