حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 187
ناہ صاحب دیباچه باب ہفتم۔۔۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب تحریر کرتے ہیں:۔یہ وصیت اپریل ۱۹۲۷ء میں والدم حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے لکھ کر مجھے دی کہ میں اسے محفوظ رکھوں اور یہ کہ اسے اپنے لئے دستور العمل بنایا جائے۔ان دنوں آپ کو اس بات کا شدید رنج و فکر تھا کہ اس وقت تک کیوں ہم نے دارالامان میں مکان نہیں بنوائے۔یہ فکر اس حد تک تھا کہ آپ اس سے دن رات بے چین رہتے اور اس قلق واضطراب کی حالت میں شاید دل کو تسکین دینے کی خاطر آپ نے ہمارے لئے یہ وصیت اپنے ہاتھوں سے لکھی۔آج رات جب کہ کاتب کتابت کا آخری کام کر چکا تو میں نے اپنے تئیں شفاخانہ رعیہ میں دیکھا۔جہاں شاہ جی رحمتہ اللہ علیہ تقریباً پچیس سال تک انچارج ڈاکٹر رہے۔کیا دیکھتا ہوں کہ آپ اسی شفا خانہ میں لوگوں کے علاج میں مصروف ہیں۔وہ اُجڑا ہوا تھا مگر آپ کی آمد سے آباد ہے۔اس میں آج کل حیوانات کا شفا خانہ ہے۔خواب میں بھی دیکھتا ہوں کہ اس میں حیوانوں کے علاج کا بھی سامان ہے۔اور انسانوں کے علاج کیلئے بھی آپ کو اجازت حاصل ہے۔بیمار آپ کے ارد گرد جمع ہیں اور شفا خانہ میں رونق ہے۔اس کی تعبیر میں نے یہ کی ہے کہ ممکن ہے کہ یہ وصیت اور یہ مناجات * جو میں نے آپ کی یاد میں بطور ضمیمہ کے ترتیب دی ہے بہت سے دلوں کی شفایابی اور آبادی کا موجب ہو۔آمین خاکسار زین العابدین ولی اللہ شاہ دار الانوار ( قادیان) یوم الجمعه ۲۱ رمضان المبارک ۱۳۵۶ھ مطابق ۲۶ نومبر ۱۹۳۷ء یہ مناجات ولی اللہ شاہ اس وصیت کے ساتھ شائع نہیں کی جارہی ہیں۔مرتب 119