حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 186
ناہ صاحب " تعارف وصیت" باب ہفتم۔۔وصیت کرنا سنت انبیاء، سنت صالحین اور سنت بزرگان ہے۔قرآن کریم نے وصیت کے بارہ میں تاکید کی ہے۔اس زمانہ میں ہمارے پیارے امام مہدی علیہ السلام نے اعلام الہی اور منشائے الہی کے مطابق عالمگیر نظام وصیت جاری فرمایا۔جس کی برکات وحسنات کل عالم پر حاوی ہیں۔آج جماعت احمدیہ کے لاکھوں احباب اپنے بزرگوں کی کی ہوئی وصیت کے ثمرات حسنہ سے فیضان حاصل کر رہے ہیں۔نظام وصیت اور اس کے روحانی فضائل و انوار تا قیامت بلکہ اگلے جہاں میں بھی جاری وساری رہیں گے۔ہمارے حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے بھی اپنے افراد خانہ کے لئے ایک لائحہ عمل، ایک بیاض، ایک مشعل راہ اور ایک وصیت فرمائی۔یہ وصیت آپ کی حیات طیبہ اور کے ستر سالہ تجربات پر مشتمل ہے۔جہاں اس وصیت میں آپ نے اپنی اولاد کو مخاطب فرمایا ہے وہاں اس وصیت کی نصائح عالمگیر اسلوب تربیت اور کل اخلاقی ، اصلاحی ، دینی اور علمی امور پر مشتمل ہیں۔آپ کی یہ نصائح عارفانہ اور نگارشات عاجزانہ در حقیقت اپنے آقا و متاع حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی پاک اور مقدس صحبت اور آپ کے روحانی علوم اور روحانی خزائن سے مقتبس ہیں۔یہ وصیت ہمارے لئے ایک منشور حیات ہے۔آپ نے یہ وصیت اپریل ۱۹۲۷ء میں تحریر فرمائی تھی اور پہلی بار اسے شائع کرنے کی توفیق آپ کے فرزند ارجمند حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو نومبر ۱۹۳۷ ء میں آپ کے وصال کے بعد عطا ہوئی۔یہ وصیت کتابی صورت میں۵۰ صفحات پر مشتمل ہے۔اس کے ساتھ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے ایک ضمیمہ شائع فرمایا جو۔ے صفحات پر مشتمل ہے۔اس ضمیمہ میں ۱۹۰ سے زائدا دعیہ القرآن الکریم ، ادعیۃ الرسول ﷺ اور ادعیہ امسیح الموعود شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضرت شاہ صاحب کے بیان کردہ اخلاق فاضلہ جو آپ نے اپنی وصیت میں بیان فرمائے ہیں، ان سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔اس باب میں وصیت پیش کی جارہی ہے۔ΙΔΑ