حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 165 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 165

مارشاہ صاحب باب ششم۔۔۔۔۔ذکره میں میری سکونت ہے۔خدا کے فضل سے پانی پیتے ہی ان کو صحت ہو گئی۔اس وقت انہوں نے نذر مانی کہ حضور کی خدمت میں بیعت کے لئے جلد حاضر ہوں گی۔فرمایا بہت اچھا۔بعد اس کے وہ بیدار ہوگئیں۔جب انہوں نے یہ خواب دیکھی تو ابھی شیر شاہ قادیان سے واپس نہ پہونچا تھا۔بلکہ دوسرے دن صبح کو پہونچا۔اس رات کو بہت مایوسی تھی اور میرا خیال تھا کہ صبح جنازہ ہو گا لیکن صبح بیدار ہونے کے بعد انہوں نے آواز دی کہ مجھ کو بھوک لگی ہے۔مجھے کچھ کھانے کو دو اور مجھے بٹھاؤ۔اسی وقت ان کو اٹھایا اور دودھ پینے کے لئے دیا اور سخت حیرت ہوئی کہ یہ مردہ زندہ ہوگئیں۔عجیب بات تھی کہ اس وقت ان میں طاقت بھی اچھی پیدا ہوگئی اور اچھی طرح گفتگو بھی کرنے لگیں۔میرے پوچھنے پر انہوں نے یہ سارا خواب بیان کیا اور کہا کہ یہ سب اس پانی کی برکت ہے جو حضرت صاحب نے دم کر کے دیا تھا اور دعا کی تھی صبح کو وہ خود بخود بیٹھ بھی گئیں۔اور کہا کہ مجھ کوفوراً حضرت صاحب کی خدمت میں پہنچا دو۔کیونکہ میں عہد کر چکی ہوں کہ میں آپ کی بیعت کے لئے حاضر ہونگی۔میں نے کہا انبھی آپ کی طبیعت کمزور ہے اور سفر کے قابل نہیں۔جس وقت آپ کی حالت اچھی ہو جائے گی آپ کو پہونچا دیا جائے گا لیکن وہ برابر اصرار کرتی رہیں کہ مجھ کو بے قراری ہے جب تک بیعت نہ کر لوں مجھے تسلی نہ ہوگی اور شیر شاہ بھی اسی روز قادیان سے دوائی لے کر آ گیا۔اور سب ماجرا بیان کیا کہ حضرت صاحب نے بڑی توجہ اور در ددل سے دعا کی ہے اور فرمایا ہے کہ وہ اچھے ہو جائیں گے۔جب میں نے تاریخ کا مقابلہ کیا تو جس روز حضرت صاحب نے قادیان میں دعا کی تھی۔اسی روز خواب میں ان کو زیارت ہوئی تھی اور یہ واقعہ پیش آیا تھا۔اس پر ان کا اعتقاد کامل ہو گیا اور جانے کے لئے اصرار کرنے لگیں۔چنانچہ ان کو صحت یاب ہونے پر قادیان ان کے بھائی سید حسین شاہ اور شیر شاہ ان کے بھتیجے کے ساتھ روانہ کر دیا۔حضرت صاحب نے بڑی شفقت اور مہربانی سے ان کی بیعت لی اور وہ چار روز تک قادیان ٹھہریں۔حضور نے ان کی بڑی خاطر تواضع کی اور فرمایا کچھ دن اور ٹھہر ہیں۔وہ تو چاہتی تھیں کہ کچھ دن اور ٹھہریں مگر ان کا بھتیجامدرسہ میں پڑھتا تھا اور بھائی ملازم تھا۔اس لئے وہ ٹھہر نہ سکیں اور واپس رعیہ آگئیں۔ایک دن کہنے لگیں کہ میں نے خواب میں رسول اللہ علی کو دیکھا۔آپ نے دو انگلیاں کھڑی کر کے فرمایا۔کہ میں اور مسیح دونوں ایک ہیں۔وہ انگلیاں وسطی اور