حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 6
دو ہزار فٹ ہے۔شاہ صاحب * باب اول۔۔۔۔۔ابتدائی حالات حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب فرماتے ہیں:- سیہالہ والا مکان و زمین جو بھائی تم سے لینا چاہے وہ گیارہ سور و پیہ یعنی ایک ہزار قرض کا اور ایک سو عزیز حاجی احمد صاحب کا رو پید ادا کر کے زمین فک کرالے۔اور یہ مکان پختہ بنوائے اور چاہ کے پاس ایک چھوٹی سی ( بیت ) بنوا کر ایک حافظ احمدی مخلص جس کو تنخواہ یا خرچ مل کر دیا جائے ، اذان کے لئے اور محافظت مکان کے لئے مقرر کرو۔شاید وہاں سیہالہ میں احمدیت کا بیج بویا جائے اور یہ مکان اور چاہ و زمین بطور یادگار والدین اور بيت الدعا اور استجابت دعا کے لئے ہمیشہ آباد رہے تا کہ آئندہ اولا داس سے مستفیض رہے اور اس سیہالہ میں (دعوۃ ) احمدیت کے لئے کوشش کرتے رہیں کہ ان لوگوں نے میری اور میرے والدین کی اور دیگر اقرباء اور میرے خاندان کی بہت خدمات کی ہیں اور ہم ان کے ممنون احسان ہیں۔هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (سورة الرحمن: ۶۱) کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی اور ماسوا اس کے کل مخلوق کو ( دعوۃ ) احمد بیت کا پہنچانا ایک فرض قطعی ہے۔اس لئے ان لوگوں میں خصوصاً ( دعوۃ ) احمدیت کے لئے سعی بلیغ اور دعاؤں سے کام لینا ہمارے ذمہ فرض ہے“۔( وصیت حضرت شاہ صاحب صفحه (۲۶) خاندان سادات حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب فرماتے ہیں:۔اپنی قوم سادات کی اصلاح و بہبودی کے لئے بھی خاص کر درد دل سے تم دعائیں مانگو، اور ان کو خوب ( دعوۃ الی اللہ ) کرو۔کیونکہ یہ خاندان اب مغضوب علیہ اور ذلیل اور تباہ ہو گیا ہے۔اگر یہ تقی ، صالح اور باخدا ہوتے تو *Gazetteers of Rawalpindi District 1907, by Punjab Govt Lahore:- Punjab Govt۔, 1909۔pp 254-260