حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 135
شاہ صاحب باب چہارم۔۔۔۔۔حضرت ام طاہر رہا۔پھر جب انہیں کچھ سکون ہوا تو شیخ بشیر احمد صاحب کے گھر پر سونے کے لئے چلا گیا۔کوئی چار بجے آدمی دوڑتا ہوا آیا کہ جلد چلیں حالت نازک ہے۔اس وقت میرے دل میں یہ یقین پیدا ہو گیا کہ اب میری پیاری مجھ سے رخصت ہونے کو ہے۔اور میں نے خدا تعالیٰ سے اپنے اور اس کے ایمان کے لئے دعا کرنی شروع کر دی۔اب دل کی حالت کمزور سے کمزور تر ہوتی جارہی تھی۔اور میرے دل کی ٹھنڈک دار الآخرۃ کی طرف اڑنے کے لئے پر تول رہی تھی۔۔۔خدا تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہو گیا آخر دو بج کر دس منٹ پر جب کہ میں گھبرا کر باہر نکل گیا تھا۔عزیزم میاں بشیر احمد صاحب نے باہر نکل کر مجھے اشارہ کیا کہ آپ اندر چلے جائیں۔اس اشارہ کے معنی یہ تھے کہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے۔میں اندر گیا اور مریم کو بے حس و حرکت پڑا ہوا پایا۔مگر چہرہ پر خوشی اور اطمینان کے آثار تھے۔ان کی لمبی تکلیف کی وجہ سے مجھے ڈر تھا کہ وفات کے وقت کہیں بے صبری کا اظہار نہ کر بیٹھیں اس لئے ان کے شاندار اور مومنانہ انجام پر میرے منہ سے بے اختیار الحمد للہ نکلا۔اور میں ان کی چار پائی کے پاس قبلہ رخ ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر گیا۔اور دیر تک خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہا کہ اس نے ان کو ابتلاء سے بچایا اور شکر گزاری کی حالت میں ان کا خاتمہ ہوا۔اس کے بعد ہم نے ان کو قادیان لے جانے کی تیاری کی۔اور شیخ بشیر احمد صاحب کے گھر لا کر انہیں غسل دیا گیا۔پھر موٹروں اور لاریوں کا انتظام کر کے قادیان خدا کے مسیح (علیہ السلام ) کے گھران کو لے آئے ایک دن ان کو انہی کے مکان کی نچلی منزل میں رکھا اور دوسرے دن عصر کے بعد بہشتی مقبرہ میں ان کو خدا کے مسیح علیہ السلام کے قدموں میں ہمیشہ کی جسمانی آرام گاہ میں خود میں نے سر کے پاس سے سہارا دے کر اتارا اور لحد میں لٹا دیا۔اللَّهُمَّ ارْحَمْهَا وَارْحَمُنِي اولاد مرحومہ کی اولا د چار بچے ہیں تین لڑکیاں اور ایک لڑکا۔یعنی امتہ الحکیم امۃ الباسط، طاہر احمد اور امۃ الجمیل (سلمهم الله تعالی و كان معهم في الدنيا والاخرة) جب اورامۃ ۱۳۷