حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 2
شاہ صاحب حضرت شاہ صاحب کا خاندان باب اول۔۔۔۔۔ابتدائی حالات حضرت سید عبد الستار شاہ صاحب نے اپنی وصیت میں متعدد مرتبہ اپنے مقدس خاندان سادات کا تذکرہ فرمایا ہے اور افراد خانہ کو وصایا فرما ئیں ہیں کہ اہل سادات میں ضرور دعوت الی اللہ جاری رکھیں۔اور فرمایا کہ ہمارے وطن سیہالہ کو نہ بھولنا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:- ”میرے مرحوم والدین و دیگر اقرباء کا جو قبرستان ہے۔اور اس کے گرد جو چار دیواری خام ہے ، اُس کو پختہ بنایا جائے۔اور اس کے قریب جو ایک بن چھوٹی سی ہے۔اُس کو پختہ چھوٹے سے تالاب کی شکل پر بنوایا جائے۔تاکہ اُس سے مال مویشی اور دیگر انسانی ضروریات پوری ہوتی رہیں۔اور یہ ایک یادگار بطور صدقہ جاریہ وثواب دارین ہوگی۔جو تمہارے والدین اور اجداد گزشتہ مدفون قبرستان سیہالہ کے لئے اُن کی ترقی درجات کا موجب رہے گی۔اگر تم سے ایک بھائی ایسے اخراجات کا متحمل نہ ہو سکے۔تو تم سب مل کر اس مکان اور ( بیت ) اور چار دیواری اور تالاب کا انتظام کرو۔اور اس مکان کو بطور مشترکہ بیت الدعا مقرر کرلیا جائے۔اور جب کسی پر خدانخواستہ کوئی مصیبت یا ابتلاء اور کوئی مشکل خدانخواستہ بن جائے۔تو یہاں آکر چند روز قیام پذیر ہوکر ان مشکلات کی مشکل کشائی کے لئے دردِ دل اور تضرع اور اضطرار کیساتھ بارگاہ الہی میں جھکے اور عجز و نیاز اور خشوع سے اپنی روح کو اس کے آستانہ پر گرا کر دعائیں مانگی جاویں۔تو انشاء اللہ تعالیٰ سب مشکلات اور تکالیف حل ورفع ہو جائیں گی۔الا ماشاء اللہ۔( وصیت حضرت شاہ صاحب صفحه ۱۴ - ۱۵) آپ کے اس فرمودہ سے یہ ظاہر ہے کہ آپ کا خاندان سادات مدت سے سیہالہ میں آباد تھا۔سیہالہ میں آپ کی زمین بھی تھی۔جس کا ذکر آپ نے اپنی وصیت میں فرمایا ہے۔اپنے خاندان کی نسبت آپ نے وصیت فرمائی کہ :-