حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 111 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 111

شاہ صاحب باب سوم۔۔۔۔سوم۔۔۔۔۔۔اولاد سے زندگی میں جہاں بھی رہے بہت ہی ہر دلعزیز تھے۔ان کی طبیعت میں بہت ہی محبت اور شفقت پائی جاتی تھی۔بلا امتیاز مذہب وملت ہر ایک سے ہمدردی کرتے تھے۔لوگ بھی ان سے بہت جلد اور بے حد محبت کرنے لگ جاتے تھے جو دراصل انہی کی طبیعت کا انعکاس تھا۔بڑے تہجد گزار، صاحب کشف والہام اور بہت ہی خوبیوں کے مالک تھے۔ایک ہند وطالب علم کا والہانہ اظہار محبت ایک مرتبہ گورنمنٹ کالج لاہور میں مجھے ان کے نیک اثر کی وسعت اور گہرائی کا اس طرح علم ہوا کہ کالج میں ہندولڑکوں کا ایک گروپ تھا جو مشرقی افریقہ سے آیا ہوا تھا۔چونکہ وہ انگریزی سکولوں کے پڑھے ہوئے تھے ان میں باقی لڑکوں کے مقابل پر نسبتاً امتیازی حیثیت کا احساس پایا جاتا تھا۔وہ اپنے آپ کو دوسروں سے نسبتا افضل سمجھتے تھے۔ان کا آپس میں اٹھنا بیٹھنا تھا۔ایک دفعہ ایک لیبارٹری میں ہم کام کر رہے تھے۔میرے ساتھ ایک مسلمان لڑکا تھا اس سے باتوں باتوں میں سید محمود اللہ شاہ صاحب کا ذکر آ گیا۔ایک ہندولڑ کا چند سیٹیں پرے دوسری طرف بیٹھا کام کر رہا تھا۔وہ سن کر ایک دم چونکا اور دوڑ کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا یہ کس کا نام تم نے لیا ہے؟ میں نے کہا سید محمود اللہ شاہ صاحب کا۔وہ کون تھے؟ میں نے کہا وہ میرے ماموں تھے۔مشرقی افریقہ میں رہا کرتے تھے۔یہ سنتے ہی وہ میرے گلے لگ گیا۔شدت جذبات سے اس کی آواز گلو گیر ہوگئی۔کہنے لگا وہ تو میرے بڑے محسن تھے۔مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ تم ان کے بھانجے ہو۔بے حد محبت کے انداز میں یعنی جس طرح ہندو گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے ہیں اس قسم کا اس نے والہانہ محبت کا اظہار کیا۔علاوہ ازیں کئی غیر از جماعت طالب علم جو ان کے شاگر در ہے ہیں۔جب بھی ان سے ماموں جان کا ذکر ہوا انہوں نے بہت ہی غیر معمولی احترام اور محبت کا اظہار کیا۔جن کے احسانات میں کبھی نہیں بھول سکتا ابھی حال ہی میں انگلستان کے دورے کے وقت میرے دوسرے ماموں زاد بھائی سید نسیم احمد صاحب بھی وہاں گئے ہوئے تھے ان کو دل کی تکلیف تھی۔انہوں نے وہاں