حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 92 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 92

شاہ صاحب۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔۔۔والدہ کے پوچھنے پر کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر کس قدر مہربان ہے کہ اس نے اس ننھے جانور کی بھوک کی تسکین کے لئے مجھے ذریعہ بنایا اور ہمیں نصیحت کی کہ ایسے جانوروں پر کبھی ظلم نہیں کرنا چاہیے۔اور ان کوکھیل کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔یہ بے زبان مخلوق بھی فریاد کرتی ہے۔ان بے زبانوں سے دعائیں لیا کرو۔ان سے پیار کرو۔انہیں دانہ پانی کھلاؤ۔خلیفہ وقت ہونے کی وجہ سے حضرت خلیفہ مسیح ثانی اللہ آپ سے راضی ہو ) کی زبان سے نکلے ہوئے سرسری الفاظ کی بہت وقعت والد صاحب کے نزدیک تھی۔اور آپ اسی میں سب خیر و برکت سمجھتے تھے۔حضور کی دعاؤں پر آپ کو بہت یقین تھا۔جب کوئی تکلیف ہوتی ابا جان حضرت خلیفہ اسیح الثانی ( اللہ آپ سے راضی ہو ) کی خدمت میں تار یا خط بھیجتے اور کہتے کہ اب مجھے اطمینان ہو گیا ہے۔اس کی کئی مثالیں ہیں۔ابا جان اولاد کی اعلیٰ تعلیم کے حامی تھے۔ملازمت کی وجہ سے جنگلات اور پہاڑوں پر دورے کرتے رہنے کی وجہ سے تعلیم کا انتظام ممکن نہ تھا اس لئے آپ چاہتے تھے کہ بچیوں کو بطور بورڈ داخل کرائیں جس کی والدہ صاحبہ اجازت نہ دیتی تھیں۔مجھے اعلیٰ تعلیم کا شوق بچپن سے تھا۔میں نے میٹرک کیا تو میں نے مطالبہ کیا کہ میڈیکل لائن اختیار کرنے کی میری خواہش پوری کریں۔آپ نے حسب معمول حضرت خلیفہ اسیح الثانی (اللہ آپ سے راضی ہو ) سے مشورہ چاہ بتایا کہ یہ بچی کی دیرینہ خواہش ہے اور یہ ذہین ہے۔حضور نے جواب دیا کہ میں اپنے خاندان کی لڑکیوں کے لئے میڈیکل یعنی ڈاکٹری کی اجازت نہیں دوں گا۔کو ایجو کیشن Co-Education کی وجہ سے بے پردگی اس میں ضروری ہوتی ہے۔خواہ کچھ بھی ہو“۔مجھے داخلہ کے لئے بلایا جا چکا تھا اور روانگی کی تیاری ہو چکی تھی۔ابا جان مجھے اپنی ساری اولاد سے زیادہ چاہتے تھے۔اور میری بات کو انہوں نے کبھی رد نہیں کیا تھا۔اس موقعہ پر انہوں نے مجھ سے کہا کہ خلیفہ وقت جو ہمارے خاندان کے ہیڈ بھی ہیں ان کا منشاء نہیں کہ اس لائن میں داخلہ لو۔سو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں داخلہ خیر و برکت کا موجب نہیں ہوسکتا۔۹۴