حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 91 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 91

رشاہ صاحب لا نا بھی ممکن نہ تھا کہ پیچھے سے یہ جانور حملہ آور ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔سو میں اونچی آواز سے سبحان اللہ وبحمدہ اور درود شریف کا ورد کر کے اس طرف پھونکنے لگا۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کہ یہ موذی خطرناک بھیڑ یا کسی دوسرے جانور کی آواز سے الٹے پاؤں بھاگ اٹھا اور اس طرح بچاؤ ہوا۔دو افراد کی بیعت ایک دفعہ ابا جان دورے میں رات کو گھنے جنگل اور برفانی پہاڑی پر پڑاؤ ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔جب سونے لگے تو شدید برفباری شروع ہو گئی۔خانساماں اور اردلی وغیرہ نے اپنی چھولداریاں آپ کے خیمہ کے قریب لگانا چاہیں تا کہ آپ کے بارے اطمینان رہے لیکن آپ نے ان کو تسلی دلادی۔اور ایسا کرنے سے منع کر دیا۔رات کے دو بجے شدید برفباری سے عملہ کی چھولداریاں اکھڑ گئیں اور وہ گھبرا کر آپ کے خیمہ کی طرف بھاگے۔دیکھا کہ خیمہ گرا ہوا ہے اور اوپر ڈھیروں برف پڑی ہے۔برف ہٹائی تو دیکھا کہ آپ پلنگ کے پاس سجدہ میں پڑے ہیں۔چونکہ اوپر برف پڑتی گئی اس لئے آپ اٹھ نہ سکے۔عملہ کو بے انتہا تعجب ہوا کہ آپ زندہ سلامت اور خوش باش ہیں۔ایسے تو کل اور عبادت کو دیکھ کر دو افراد نے بیعت کر لی۔جانوروں سے حسن سلوک۔ایک دفعہ جنگل سے گذرتے ہوئے اباجان نے ایک ہرن کا دودھ پیتا بچہ دیکھا جو اپنی ماں سے بچھڑ گیا تھا اور بھوکا تھا۔آپ نے سامان میں سے دودھ نکال کر رومال بھگویا اور وہیں بیٹھ کر اسے پلانے لگے۔مغرب کا وقت قریب ہو گیا۔عملہ میں سے کسی نے کہا کہ گھر کی مسافت بہت ہے اور جنگلی راستے سے گھوڑے بمشکل چلیں گے۔اس بچے کو یا تو ساتھ لے چلیں یا چھوڑ دیں۔ابا جان نے کہا کہ ایسا ظلم میں نہیں کروں گا۔سیر ہو کر دودھ پی لے تو اطمینان ہو اور بہت ممکن ہے کہ اس کی ماں اسے تلاش کرتی ہوئی ادھر آ نکلے۔میں اللہ تعالیٰ کی اس معصوم مخلوق کے لئے دعا کر رہا ہوں۔ابھی پندرہ بیس منٹ نہ گزرے تھے کہ ہرنی چوکڑی بھرتی ہوئی ادھر آئی اور دور دور سے بچے کے گرد چکر کاٹنے لگی۔ابا جان نے الحمد للہ پڑھا اور اسے چھوڑ دیا اور روانہ ہو گئے۔دیر سے گھر پہنچے تو میری ۹۳