دوزخ سے جنت تک — Page 54
) 54 جیل سے بمشکل چھوٹے ہیں۔تم کرائے کی بات رات کے کوئی گیارہ بجے کا وقت ہو گا۔ہمیں کرتے ہو۔کرایہ دور کی بات ہے ہمارے پاس تو تھوڑی دور گلیوں میں پندرہ سے بیس سال کے کھانے کو کچھ نہیں۔اگر ہو سکے تو ہمیں اپنی جیب نوجوان لڑکے لڑکیوں کا ایک بڑا گر وہ کھیلتے ہوئے سے کھانا کھلا دو۔یہ ٹن کے وہ ٹیکسی والے تو پاگل نظر آیا۔لڑ کے کوئی تین چار ہوں گے اور لڑکیاں ہو گئے اور جمشید کو گریبان سے پکڑ لیا اور لگے د کوئی پندرہ بیس کے قریب۔دیکھنے میں یہ بالکل ھینگا مشتی کرنے۔اب ہم آٹھ کے آٹھ افراد نے یورپین بچوں جیسے تھے اور جین شرٹ وغیر ہ لباس بڑی مشکل سے جمشید کا کالر چھڑوایا۔ٹیکسی والے تھا البتہ بال سیاہ تھے۔ان میں سے کئی بچوں نے کرایہ مانگ رہے تھے اور ہم اُنکی منتیں کر رہے اپنی کمر میں بندوق لٹکا رکھی تھی۔ہمیں دیکھ کے خود تھے۔جب اُنہوں نے ہماری منتیں نہ مانیں تو ہی یہ بچے ہماری طرف بڑھے جمشید نے انہیں مجبوراً ہم نے تیزی سے گاؤں کی طرف تقریباً ساری بات سمجھائی۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک بھاگنا شروع کر دیا۔تھوڑی دور تک ٹیکسی والے پاکستانی کے گھر کو جانتے ہیں۔یہ سنتے ہی ہمیں پکڑنے کے لئے ہمارے پیچھے بھاگے۔ہمارے اندر امید اور خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔روڑے اٹھا کے ہمیں مارتے رہے لیکن پھر اب بچوں کا یہ سارا گروہ آگے آگے اور ہم پیچھے انہیں اپنی ٹیکسیوں کی فکر شروع ہوئی اور وہ واپس پیچھے۔کچھ دیر چلے تو سامنے سے ایک شخص آتا مڑ گئے۔ہمارا خیال تھا کہ وہ ٹیکسی لے کے دکھائی دیا۔بچوں نے اشارہ کر کے بتایا کہ یہی وہ ہمارے پیچھے آئیں گے لیکن خدا کا شکر ہے کہ وہ پاکستانی شخص ہے جس کے گھر کی طرف ہم جا کوئی نیک اور ترس کھانے والے آدمی تھے۔اللہ رہے ہیں۔اُنکا یہ کہنا تھا کہ ہم اُسکی طرف ایسے تعالیٰ اُنکو جزاء دے اور اپنی جناب سے انہیں لیکے جیسے سیلاب کے دنوں میں متاثرین امدادی بے بہا فراخیاں عطا کرے۔ٹرک کی طرف بھاگتے ہیں۔نو عجیب و غریب