دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 53 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 53

) 53 رہے بیٹھتے رہے چلتے رہے آخر ایک جگہ ایک دو آہستہ آہستہ شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ہم بہت چھوٹی چھوٹی دکا نہیں بلکہ چائے کے ویران سے خوش ہوئے اور اُنہیں وہاں چلنے کے لئے کہا۔کھوکھے نظر آئے۔یہ کھوکھے کچی مٹی کے بنے جمشید سے اُنکی کرائے کی بات ہوئی۔جمشید نے ہوئے تھے اور ان میں بیٹھے ہوئے دکاندار زندگی ہمیں بتایا کہ یہ اتنے پیسے کہہ رہا ہے جبکہ ہمارے سے بیزار نظر آ رہے تھے۔انکے پاس نجانے کون پاس تو ایک پیسہ بھی نہیں۔طے یہی پایا کہ ان آتا ہوگا قریب ہی ایک دو پیلے رنگ کی ٹیکسیاں سے متفق ہو کے کسی طرح آبادی تک پہنچا کھڑی تھیں۔یہاں ہم نے پوچھا کہ اس وقت جائے۔جمشید نے بتایا کہ میں نے اُنہیں ڈبل ہم کس ملک میں اور کس مقام پر ہیں۔ہمیں بتایا کرائے کی اور ٹپ کی آفر کی ہے۔ٹیکسی والے گیا کہ ہم لبنان میں ہیں اور اسرائیل یہاں سے خوش تھے کہ ایسی خوش قسمت سواریاں ملیں۔ہم بہت دور نہیں ہے۔ہم میں سے جمشید سعودی گھبرائے ہوئے تھے کہ آگے کیا ہونے والا عرب رہ کر آیا ہوا تھا۔اُسنے آگے ہو کے ٹیکسی ہے۔کہیں یہ ہمیں لبنانی پولیس کے حوالے نہ والوں کو بتایا کہ ہم بڑی مشکل سے شام کی قید کر دیں۔کافی مسافت کے بعد ایک گاؤں کے سے رہا ہو کے آئے ہیں اور اب ہمیں کسی ایسے آثار نظر آئے۔ٹیکسی والوں نے ہمیں ایک جگہ شہر یا گاؤں جانا ہے ہے جہاں کوئی پاکستانی رہتا اُتارا اور خود بھی باہر آ گئے اور کرائے کا کہا۔ہم ہو۔ٹیکسی والوں نے بتایا کہ یہاں قریب ہی سب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔جمشید جو ایک ایسا گاؤں ہے جس میں ایک پاکستانی شخص پہلے فرفر عربی بولتا تھا اب وہ بھی خاموش تھا۔دیکھا گیا ہے۔اُسنے بتایا کہ جتنے بھی سزا یافتہ جب ڈرائیوروں نے چیخ چیخ کے کرائے کا کہا تو قیدی لبنان ڈی پورٹ کئے جاتے ہیں وہ سب جمشید نے کہا اے میرے پیارے بھائیو سیچ سے پہلے اسی گاؤں جا کر شہرتے ہیں اور پھر بات تو ہے کہ ہم غریب الوطن لوگ ہیں دمشق کی