دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 39 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 39

) 39 لڑنے کی سکت نہیں تھیں اس لئے انہوں نے لیٹے اور ہم ہتھکڑیوں میں حج کے سامنے پیش ہوئے۔لیے عربی میں ہمیں کچھ سنایا۔ایک کمبل میں ہم نو حج نے پوچھا کہ تم یہاں کیا کرنے آئے تھے۔دوست سو گئے۔ہر کسی کے جسم پہ کم از کم دس ہمارے ایک ساتھی نے جو گاؤں کا رہنے والا ، ہٹا ٹانگیں ضرور تھیں۔ایک دو گھنٹوں بعد میری آنکھ کٹا اور اکھر قسم کا تھا اور بس ڈرائیور تھا شام کی کھلی تو پتا چلا کہ کمبل ایک بار پھر اپنے مالک پولیس کو پانچ چھ مناسب قسم کی گالیاں دیں۔حقیقی سے جا ملا ہے اور ہمارے جسم سردی کی تبارک نے حج کو کہا کہ یہ کہہ رہا ہے آپکا شدت سے اکڑوں ہو چکے ہیں۔بہت مشکل خوبصورت ملک دیکھنے آئے تھے حج کے وقت تھا۔جتنا آپ سوچ رہے ہیں اس سے کچھ چہرے پر مسکراہٹ اور طمانیت پھیل گئی۔زیادہ۔اگلے روز عدالت لگی۔ہمارا ترجمان اشرف کا کے، کو اپنے اوپر بلا کا کنٹرول تھا۔تبارک ٹہرا۔اُسنے کمرہ عدالت تک جاتے ہوئے جب اُس سے پوچھا کہ کیا کرنے آئے تھے تو کہا کہ ہزاروں روپیہ بطور رشوت حج کو دے دیا اُسنے کہا " تیرے گنجے سر پر جوتیاں مارنے کو گیا ہے اسکے علاوہ حج کی فرمائش پہ نیاٹی وی اور دل چاہتا ہے“ تبارک نے پتہ نہیں اسکی کیا فرج اُسکے گھر بھجوا دیا گیا ہے اسلئے آج ہم ٹرانسلیشن کی کہ جج نے مطمئن ہو کے اثبات میں ضرور چھوٹ جائیں گے۔پتا نہیں اُسنے ایسا کیا سر ہلایا۔باری باری ہر ایک کا انٹرویو تھا یا نہیں لیکن اُسکا یہ بیان تھا۔اس نے یہ بھی کہا ہوا۔ترجمانی تبارک نے نہائت احسن رنگ میں کہ جب میں آپ سے کوئی سوال پوچھوں تو کی حج بڑا متاثر لگ رہا تھا۔اُسنے کہا کہ انہیں جواب میں کچھ بھی ضرور کہیں۔آگے موقع کی دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔اُس روز مناسبت سے ٹرانسلیشن وہ خود کرے گا۔ایک ہمیں ایک بار پھر ہتھکڑیاں لگا کے فوجی ٹرک میں طویل انتظار کے بعد ہماری بھی باری آہی گئی پھینکا گیا اور اس بار ہمیں دمشق کی مرکزی جیل غالباً