دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 38 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 38

) 38 جسم کو کاٹ دینے والی سردی اُس پر ہماری پر غداری کا الزام آسکتا ہے۔چنانچہ میں نے آنکھوں کے سامنے بے بس انسانیت کی ایسی اپنے ساتھیوں کا بھر پور ساتھ دیا اور یوں وطن تذلیل۔وہ رات بہت مشکل تھی لیکن پھر بھی عزیز سے محبت کا حق ادا کیا۔میری حالت ایسی نجانے کیسے مجھے نیند آہی گئی۔ابھی میری آنکھ تھی جیسے جنگ میں امریکہ کا ساتھ پاکستان کو لگے کچھ ہی دیر ہوئی ہوگی کہ ایک شور سے میری دینا ہی پڑتا ہے۔دومنٹ کے بعد لڑائی رسہ کشی آنکھ کھل گئی۔معلوم ہوا کہ بے پناہ سردی کے بلکہ کمبل کشی میں تبدیل ہو گئی یہاں ایک بار پھر باعث ہمارے دوستوں نے عربیوں سے کمبل میں نے اپنے دوستوں کو کہا کہ کمبل چھوڑ دو یہ چھین لیا تھا اور اب گھونسوں اور ٹکروں کا آزادانہ ہمارا نہیں ہے اور ہم ناحق اُن کو تنگ کر رہے ہیں استعمال ہو رہا تھا۔پہلے پہل دو دو تین تین کی چناچہ اپنا کمبل لے کر وہ بھی لیٹ گئے اور ہم بھی لڑائی تھی لیکن تھوڑی ہی دیر میں یہ لڑائی دو ملکوں لیٹ گئے۔لیٹے لیٹے انتاکشری کی صورت کی غیرت کی لڑائی کی شکل اختیار کر گئی۔پہلے پہل دونوں جانب سے سخت الفاظ کا تبادلہ جاری رہا۔میں نے لڑائی چھڑوانے کی کوشش کی کیونکہ سراسر ہمارا قصور تھا لیکن لڑائی چھڑوانے کے دوران ایک شامی نوجوان نے میرے سر میں بھر پور مکہ مارا جس کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ اب دفاع واجب ہو گیا ہے۔میں نے بھی اپنے دوستوں کا نیند کسی کو بھی نہیں آئی تھی۔سردی اپنے عروج پر ساتھ دینا شروع کر دیا۔میں لڑنا نہیں چاہتا تھا پہنچ گئی اور پھر کوئی ایک دو گھنٹے بعد اشرف کا کے لیکن اُس وقت مجھے یقین ہو گیا کہ اگر میں اس نے جا کے ایک شرارتی بندر کی طرح جھپٹا مار کے وقت نہ لڑا تو بعد میں یارلوگوں کی طرف سے مجھ کمبل اُن سے پھر اُتار لیا۔اُن میں بھی اب