دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 32 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 32

) 32 اسکے بعد ہمیں کوئی تین منزلیں اوپر لے جایا گیا۔خاوند بھی اور صالح بشارت ، جمشید ، نصیر وسیم ہمارے ساتھ اُن خواتین کو بھی سیڑھیاں چڑھنی سب اُن پولیس افسران کے سامنے بولنے لگے پڑیں جنہیں شاید دو قدم بھی نہیں چلنا چاہئے تھا۔بلکہ صالح بشارت تو اُس پولیس افسر کے راستے میرے دوست اختر کا سب سے چھوٹا بیٹا میں نے میں آکھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ صرف خاتون پولیس اُٹھایا ہوا تھا۔اوپر ایک بڑے کمرے میں ہمیں والی ہی اسے لے کے واش روم جاسکتی ہے۔دیوار کے ساتھ لگ کے کھڑا ہونے کا حکم دیا گیا۔صالح بشارت غالبا لا ہور کا رہنے والا نو جوان تھا۔ہمارے ایک دوست کی اہلیہ نے کہا کہ وہ واش دمشق میں قید کے اس سارے عرصے میں وہ روم جانا چاہتی ہیں۔دو بد تمیز قسم کے سپاہیوں ہمارے لئے حو صلے اور عزم کا باعث رہا۔نہ کبھی نے اُسے پکڑا اور ساتھ لے جانے لگے۔اس پہ خود خوف زدہ ہوتا تھا نہ کسی کو ہونے دیتا تھا بلکہ ہم سب نے احتجاج کیا کہ ہمیں خواتین پولیس حوصلہ دلاتا تھا۔اب ہم سارے احتجاج کر رہے افسران نظر آ رہی ہیں وہ لے کے جائیں۔لیکن تھے۔یہ بات اُن کے لئے ناقابل قبول تھی وہ تو انہوں نے نہ سنا اس پر میں نے زیادہ اونچی اُس جگہ کے فرعون تھے۔کمرے میں ایک شور مچ آواز میں کہا کہ نہیں یہ صرف خاتون پولیس افسر گیا اور پھر بڑے افسر نے خاتون پولیس والی کو اف کے ساتھ تہہ خانے میں موجود واش روم میں بلا کے کہا کہ اسے واش روم لے جائے۔جائے گی۔اس پہ ایک شامی پولیس والے نے کمرے کا ماحول بظاہر پرسکون ہوا لیکن ہمیں مجھے دو تین تھپڑ رسید کئے لیکن میں نے اپنا معلوم تھا کہ اس خاموشی کے بعد کوئی طوفان آنے احتجاج جاری رکھا اور کہا کہ کسی صورت میں یہ والا ہے۔کوئی چار پانچ منٹ تک خاموشی طاری خاتون مرد پولیس والوں کے ساتھ نیچے تہہ خانے رہی۔میں نے ابھی تک اختر کا بیٹا اُٹھایا ہوا تھا۔میں نہیں جائے گی۔اتنے میں اُس خاتون کا سب کو دیوار کے ساتھ کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا