دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 31 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 31

) 31 حالت اگلے دن اور بھی خراب ہو گئی۔میرے بتایا کہ ایجنٹ نے انہیں کہا تھا کہ دو دنوں میں وہ ساتھیوں صالح ، جمشید اور نصیر نے عربی قیدیوں جرمنی ہوں گے اس لئے وہ اس حالت میں بھی کے ساتھ مل کے پروگرام بنایا کہ اب جب وہ سفر پر نکل پڑے تھے۔اگلے دن معلوم ہوا کہ فوجی جس نے انٹونی کو مارا تھا اندر آئے تو اللہ تعالی نے انکی اہلیہ کو بیٹی سے نوازا ہے۔ہم دروازہ اندر سے بند کر کے اُسے خوب مارا جائے سب بہت خوش ہوئے۔اپنے اس دوست کو نتائج چاہے کچھ بھی ہوں۔انٹونی کی حالت دیکھ مبارکباد دی اور تسلی دی۔اُنکا نام میں جان بوجھ کے دل میرا بھی یہی چاہتا تھا لیکن میں نے اپنے کے نہیں لکھ رہا۔تاہم اُن کے حوصلے اور صبر کی دوستوں کو صبر اور دعا کی تلقین کی۔ہمارے کچھ میں داد دیتا ہوں۔بڑے صبر سے انہوں نے دوست ہم سے زیادہ اذیت میں مبتلا تھے۔ایک وقت گزارا۔دو دنوں بعد ہمیں خبر دی گئی کہ بچی دوست کی اہلیہ امید سے تھیں اور آجکل میں ماں اللہ کو پیاری ہوگئی ہے اور اُسکی تدفین کر دی گئی بننے والی تھیں وہ عورتوں کی جیل میں تھیں اور پچھلے ہے۔ہم سب پر یہ خبر بجلی بن کے گری۔بچی فوت آٹھ دنوں سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ایک دوست کی کیسے ہوگئی ؟ کون تدفین کر کے آیا ہے؟ کہاں بزرگ والدہ جو بیمار تھیں وہ بھی عورتوں کی جیل تدفین ہوئی ہے؟ ہمارے سوالوں کے جوابات میں تھیں۔اسکے علاوہ دو دوستوں کے بیوی بچے کسی کے پاس نہیں تھے۔پھر ایک روز ہمیں بتایا عورتوں کی جیل میں تھے اور کوئی رابطہ نہیں تھا۔گیا کہ آج ہمارے گروپ کی عورتوں کو بھی بلوایا سب سے زیادہ میرا وہ دوست پریشان تھا جسکی جا رہا ہے اور سب کا انٹرویو ہو گا۔صبح کوئی دس بجے اہلیہ امید سے تھیں کیونکہ تین چار دن اوپر ہو چکے کے قریب ہمیں کوٹھڑی سے نکالا گیا اور اوپر ایک تھے۔یہ دوست بہت ہی پیارے اور مہذب اور کمرے میں بٹھایا گیا جہاں خواتین اور چھوٹے ہم سب سے زیادہ شائستہ آدمی تھے۔انہوں نے بچے موجود تھے۔خواتین زار و قطار رو رہی تھیں۔