دوزخ سے جنت تک — Page 26
) 26 ہوں کہ آپ جنت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔صحت و ہے۔ہم اپنے ہاتھوں سے دن رات اپنے لئے تندرستی خیر و عافیت اور سوچ اور عمل کی آزادی دکھ کی نہریں کھود رہے ہوتے ہیں۔ہم نے جنت جیسی نعمتیں ہیں ان کی قدر کریں۔اسی جیل قناعت کا دامن چھوڑ کے خود ہی اپنے لئے میں، میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ یہ تو سلاخوں والی حسرتوں کے پھندے بنالئے ہیں کہ جب تک ہو جیل ہے بہت سی ایسی جیلیں بھی ہیں جو سلاخوں فلاں فلاں کام نہیں ہو جائے گا ہم خوش نہیں۔کے بغیر ہیں۔ہم میں بہت ہے جو اپنی خواہشوں سکتے انسانی حسرتیں اور خواہشیں کبھی پوری نہیں ہو کے قیدی ہیں، اپنے نفس کے قیدی ہیں اور اپنے سکتیں اور دنیا کی محبت سمندر کے پانی کی طرح ہی بنائی ہوئی مجبوریوں کی جیلوں میں قید ہیں۔ہے جتنا پیتے جاؤ گے اتنا ہی پیاس بڑھے گی۔بہت سے اپنے ضمیر کے قیدی ہیں۔کئی مزدور ایک بادشاہ اپنے درباریوں اور غلاموں کے اپنے آجروں کی قید میں ہیں۔کئی گھروں میں بہو ساتھ ایک وسیع وعریض علاقے میں پھر رہا تھا بیٹیاں قیدیوں کی زندگی بسر کر رہی ہوتی ہیں اور جہاں حد نظر زمینیں ، فصلیں باغات چشمے اور گل و محض اپنے والدین کی خوشی کے لئے ساری عمر گلزار مناظر تھے۔اُسنے اپنے ایک غلام کی کسی ایک خاموش قید کاٹتی رہتی ہیں۔آزادی بہت بات پر خوش ہو کہ کہا کہ مانگو کتنی زمین مانگتے ہو۔بڑی نعمت ہے یہ نعمت، یہ حق کسی سے نہ چھینٹے۔غلام نے کہا آپ کتنی زمین دے سکتے ہیں۔دیکھئے اور سوچئے کہ کہیں کوئی آپکی قید میں تو نہیں بادشاہ نے کہا کہ یہ لو چھڑی اور اس سے زمین پر ، ہے۔سچ بات تو یہ ہے کہ اگر ہم اپنی خواہشات سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے ایک دائرہ بنالو اس کے جن پر قابو پالیں تو بہت سی قیدوں سے رہائی دائرے میں جتنی زمین اور باغات ہوئے مل سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہماری زندگی اتنی تمہارے۔اب غلام نے دائرہ بنانا شروع کیا اور مشکل نہیں بنائی تھی جتنی ہم نے خود اپنے لئے بنالی ہر باغ کو دیکھ کے اُسکا دل چاہا کہ اُسے بھی اپنے