ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 66 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 66

تھے تو لازما ان کی وفات تسلیم کرنی پڑے گی۔کیونکہ واضح طور پر یہ آیت بتا رہی ہے کہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل تمام رسول فوت ہو چکے۔لیکن افسوس ہے کہ بعض علماء اب بھی مندر سے کام لیتے ہیں اور بجائے اس کے کہ اللہ تعالے کا تمومی اختیار کرتے ہوئے قرآن کے اس دواضح ارشاد کے سامنے سر جھکا دیں۔اور اپنی غلطی کو جرات اور دیانتداری کیساتھ تسلیم کرلیں وہ اس آیت کی بھی عجیب و غریب تاویل شروع کر دیتے ہیں۔مثلاً یہ کہدیتے ہیں کہ قد خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُل میں جو لفظ خَلَتْ ، استعمال ہوا ہے اس کا مطلب صرف مر جاتا ہی نہیں بلکہ ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جانا بھی ہے۔اس لیے ہم اس کا یہ مطلب نکا لیں گے کہ رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم سے قبل جتنے رسول تھے وہ سب یا تو مر گئے یا اپنی جگہ چھوڑ کر کہیں چلے گئے۔لیکن ہم ناظرین پر یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ محض ایک زبر دستی ہے اور نہ عربی میں جب بھی کسی انسان کے متعلق مطلق طور پر یہ لفظ "خلا " استعمال ہو تو اسکا مطلب موت ہی ہوا کرتا ہے جگہ چھوڑنا نہیں عجیب اتفاق ہے کہ عربی کی طرح انگریزی اور اردو محاورہ میں بھی گزر گیا کے الفاظ ان دونوں معنوں میں استعمال ہوتے ہیں یعنی رستے پر سے گزر جانا اور مر جانا۔لیکن جب ہم یہ کہیں کہ گذشتہ تمام انبیاء گذر گئے تو یہ معنے کرنے محض مذاق ہوں گے کہ بعض انبیاء تو فوت ہو گئے اور بعض رستوں پر سے گزر گئے۔یا ایک جگہ سے چل کر کسی " دوسری جگہ جا پہنچے۔یہ محض ایک دعوی نہیں بلکہ عربی لغت واضح طور پر گواہی دے رہی ہے کہ جب مطلقاً کسی کے متعلق " غلا" کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس سے مراد اس شخص کی موت ہوتی ہے۔دیکھئے (1) تاج العروس میں لکھا ہے " خَلَا فُلانٌ : " إِذَا مَاتَ " یعنی جب کہا جائے کہ فلان شخص گذر گیا۔تو مراد یہ ہوتی ہے کہ مر گیا۔لغت ہی نہیں بلکہ تفاسیر بھی اس آیت میں خلا سے مراد زندگی کا ختم ہونا ہی بیان کرتی ہیں۔جیسا کہ تغير القونوی علی البیضاوی خیلدم و تفسیر خازن جلد میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے