ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 59 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 59

۵۹ کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہوگا ، ایسی صورت میں پرانی قسم کا نبی ہو انٹی کا رانی مین کے ہوتے ہوئے کوئی بھی نہیں آسکتا۔تو کہاں گئے وہ آپ کے فرضی دوبارہ آنے والے عیسلی اگر وہ دوبارہ آئیں تو کسی قسم کے نبی تو بہر حال رہیں گئے۔مولوی صاحب ! یا در یکھیے کہ قرآن کریم خصوصیت کے ساتھ صرف ایسے نبی کے پیدا ہونے کے امکان کو باقی رکھتا ہے جو امت محمدیہ میں سے ہوا اور اس نے جو کچھ فیض پایا ہوا نصر صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نہ کہ کسی غیر نبی سے۔کیا آپ نے اس آیت کا کبھی مطالعہ نہیں فرمایا : وَمَن يُطِعِ الله وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ۔عَلَيْهِم مِّنَ اللبِينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِيْنَ » (الفاء (2) وحسن أولئك رفيقا۔ترتبہ یہ اور جو لوگ بھی اللہ اور اس رسول کی اطاعت کریں گے وہ اُن لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین (میں) اور یہ لوگ (بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔بہر حال چونکہ آپ نے خلط مبحث کیا تھا اس لیے ہم بھی ذرا اصل مضمون سے ہٹ کر چند قدم آپ کے ساتھ پہلے تا کہ آپ کو بتایا جائے کہ آپ پر ہر راہ بند ہے۔اب اصل مضمون کی طرف یعنی وفات یا حیات مسیح کی طرف لوٹتے ہوئے آخر میں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جو سب سے بڑا اختلاف اور جداگانہ نظریہ سمجھا جاتا ہے وہ حضرت عیسی علیہ السّلام کا آسمان پر دو سہزار سال سے زندہ رہنا اور اُمت محمدیہ کی اصلاح کے لیے دوبارہ آتا ہے۔جب یہ مسئلہ حل ہوگا تو پھر سارے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے، اور ختم نبوت کی سچی اور حقیقی تشریح بھی اس مسئلہ کے بعد ظاہر ہوگی۔کیونکہ اگر یہ قطعی طور پر ثابت ہو جائے گا کہ عیسی زندہ آسمان پر ہیں