ولکن شُبّھہ لھم — Page 58
۵۸ ختم نبوت کے اس معنی کی وضاحت بزرگان سلف کے ایک گروہ عظیم نے کی ہے میں ہیں لام کیم ترندنی سید عبدالکریم جیلانی، علامه ابن عربی، علامہ عبد الوہاب شعرانی علامه متنی حضرت عبد القادر جیلانی، علامہ تو بیشتی، علامہ عبدالرحمان جامی وغیر تم شامل ہیں۔اسی طرح فتوی دیتے وقت ان بزرگان اُمت کو فتومنی میں شامل ذرما لیجئے جنہوں نے بعینہ یہی معنے ختم نبوت کے سمجھے کہ شریعت کو منسوخ کرنے والا کوئی نہیں آسکتا۔جھاں اُمت کے اندر شریعت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع نبی آنا خارج از امکان نہیں۔اختصار کی خاطر اور آپ کی تسلی کے لیے دو اقتباسات بطور مثال پیش ہیں حضرت محمد والف ثانی فرماتے ہیں:۔خاتم المرسلین کی بعثت کے بعد بطریق وراثت و تبعیت آپ کے پیرو کاروں کو کمالات نبوت کا حصول آپ کی خالقیت کے منافی نہیں۔لہذا تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہوئے اردو ترجمہ کو بات دفتر اول حصہ نیم سته مدینه پیشنگ کمپنی بندر روڈ کراچی مکتوبات چنین بندر دوسرا حوالہ آپ کے اپنے پیرو مرشد و بانی دیوند مولانامحمد قاسم نانوتوی صاحب کا ہے جو عورت امام مجد والف ثانی کے حوالہ سے بہت زیادہ واضح اور قطعی نوعیت کا ہے۔گر بالفرن بعد زمانہ یوم عمل میں کوئی ہی پیدا ہو تو پر بھی ناقای محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا یا تحذیر انام از ما نام مقام نانوتوی مطبوع خیر خوا سرکار پراسیسی) مولوی صاحب اختم نبوت کی بحث کو ساتھ شامل کر کے آپ نے عوام الناس کو دھوکہ دیتے کی بالکل بے معنی اور لایعنی کوشش کی ہے۔خصوصاً اسی صورت میں جب لا ئی گیند ہی میں کلا کو آپ لوگ لائفی جنسی قرار دینے پر خوب تقریریں کرتے ہیں اور خوب اصرار کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اشتباہ کا امکان رکھے بغیر یہ بات کھول کر پیش فرما دی ہے کہ میرے بعد